خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 82

خطبات مسرور جلد سوم 82 خطبہ جمعہ 11 فروری 2005ء بُرا بھلا کہا اور بھی سخت الفاظ استعمال کئے تھے لیکن یہ نہ کہہ سکے کہ آپ ہمیشہ کی طرح جھوٹ بول رہے ہیں۔اگر منہ سے الفاظ نکلے تو یہی کہ ہمیشہ آپ نے سچ بولا ہے اور یقیناً آپ سچ بول رہے ہیں۔آپ کی سچائی کا معیار اتنا بلند، واضح اور روشن تھا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا کہ آپ پر کوئی جھوٹ بولنے کا الزام لگا سکے ، اشارہ بھی کر سکے۔پھر آپ کے چچا کی ایک گواہی ہے۔جب محصوری کے زمانے میں، جب شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے تھے۔تیسر اسال جب ہونے کو آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر ابو طالب کو اطلاع دی کہ بنو ہاشم سے بائیکاٹ کا جو معاہدہ خانہ کعبہ میں لڑکا یا ہوا تھا۔ساروں نے بائیکاٹ کیا تھا اس کا معاہدہ تھا، خانہ کعبہ میں لڑکا یا گیا تھا۔اس میں سوائے اللہ کے لفظ کے باقی سارا جو معاہدہ ہے اس کو دیمک کھا گئی ہے۔اور ابو طالب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات پر اتنا یقین تھا کہ انہوں نے جاکے پہلے اپنے بھائیوں سے کہا کہ خدا کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے آج تک کبھی کوئی غلط بات نہیں کی۔اور یہ اس نے مجھے بتایا ہے اور لا ز ما یہ بھی سچی بات ہے۔پھر وہ دوسرے قریش کے سرداروں کے پاس گئے ان کو بھی وہی بات بتائی کہ تمہارے معاہدے کو دیمک کھا گئی ہے۔اور تم بھی جانتے ہو اور میں بھی جانتا ہوں کہ اس نے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا۔تو جا کر دیکھ لیتے ہیں۔اگر تو میرا بھتیجا سچا نکلا تو تمہیں بائیکاٹ کا فیصلہ بدلنا ہو گا اور اگر وہ جھوٹا ہوا تو میں اسے تمہارے حوالے کر دوں گا۔جو مرضی سلوک کرنا قتل کر دیا جو چاہے کرو۔اور پھر جب وہ وہاں گئے تو دیکھا تو سب کفار نے اس پر رضا مندی کا اظہار کیا کہ واقعی وہاں سوائے اللہ کے لفظ کے باقی سارے معاہدے کو دیمک کھا گئی تھی۔چنانچہ وہ ختم سمجھا گیا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد ذكر حصر قريش رسول الله ﷺ وبني هاشم في الشعب) اب بظاہر تو آپ کے سچا ہونے کی بات ابو طالب نے کی ہے۔لیکن تمام سرداران قریش کا خاموش ہو جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کو بھی یقین تھا کہ آپ سچ کہنے والے ہیں، بلکہ یہ بھی یقین تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا بھی سچا ہے جس نے یہ خبر دی ہے۔لیکن خدا کو نہ ماننا، اس کے لئے تو تکبر اور ڈھٹائی تھی جو آڑے آتی تھی۔کیونکہ اگر یہ یقین نہ ہوتا کہ واقعی کا غذ کود یک کھا گئی