خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 752
خطبات مسرور جلد سوم 752 خطبہ جمعہ 30 دسمبر 2005ء فرمایا ہے اور یہ دعا ہر احمدی کو بھی ہر وقت یاد رکھنی چاہئے کیونکہ آج احمدی ہی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور فضلوں کی موسلا دھار بارش ہو رہی ہے۔اور جتنا ہم اس طرح شکر گزاری کریں گے اتنا ہی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا فیض پانے والے ہوں گے۔اور وہ دعا یوں سکھائی گئی کہ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّلِحِيْنَ ﴾ (النمل: 20) کہ اے میرے رب مجھے تو فیق بخش کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر کی اور میرے ماں باپ پر کی اور ایسے نیک اعمال بجالا ؤں جو تجھے پسند ہوں اور تو مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیکو کار بندوں میں داخل کر۔پس اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکرتب ادا ہوگا ، جب عبادت کے معیار قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے نیک اعمال بجالانے کی طرف بھی ہر وقت توجہ رہے گی ، اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ رہے گی اور تبھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے والے ہوں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نیک اعمال، عبادات کے اعلیٰ ترین معیار اور اسوہ حسنہ ہمارے سامنے رکھا ہے۔آپ کی عبادتوں کے معیار دیکھیں کبھی آپ گھر سے باہر نکل کر ویران جگہ پر جا کے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑاتے ہیں تا کہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ اللہ تعالیٰ سے کیا راز و نیاز ہور ہے ہیں۔کبھی اپنے گھر میں بیوی سے اجازت لیتے ہیں کہ مجھے اجازت دو کہ آج رات اپنے رب کی عبادت میں گزار دوں۔جب پوچھا جاتا ہے کہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے بخش دیا ہوا ہے، تمام انعامات سے نواز دیا ہوا ہے پھر کیوں اپنی جان ہلکان کرتے ہیں؟ تو کیا خوبصورت جواب عطا فرماتے ہیں کہ کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ ہوں؟ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر آن خدا کو یادر کھتے تھے۔(مسلم - كتاب الحيض - باب ذكر الله تعالى فى حال الجنابة وغيرها) پس یہ نمونے ہیں اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے بطور اسوہ پیش فرمائے تا کہ ہم بھی ان پر عمل کریں، ان نمونوں پر چلنے والے ہوں۔پھر امت کی بخشش کی فکر ہے اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ جس حد تک قبولیت دعا کی