خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 67 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 67

خطبات مسرور جلد سوم 67 خطبہ جمعہ 4 فروری 2005ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کی ذات سے جو عشق تھا اور اس کی وحدانیت دنیا میں قائم کرنے کی جو تڑپ تھی اور جو آپ نے اس کے لئے کوشش کی اس کا تو کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔لیکن اگر کبھی کسی سے بھی اس ذات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں اعلیٰ اور اچھے کلمات آپ نے سنے تو ہمیشہ اس کی تعریف کی۔ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کی ہے وہ لبید کا یہ مصرعہ ہے کہ سنو اللہ کے سوایقین ہر چیز باطل اور مٹ جانے والی ہے۔(بخارى كتاب مناقب الانصار باب ايام الجاهلية۔حديث نمبر 3841) پھر اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے نام کی غیرت آپ میں کس قدر تھی کہ نقصان برداشت کر لینا گوارا تھا لیکن یہ گوارا نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی غیرت کے تقاضے پورے نہ کئے جائیں۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر کے لئے تشریف لے جارہے تھے ، جب انتہائی کمزور حالت تھی۔اور بدر سے پہلے ایک مقام پر ایک شخص حاضر ہوا اور شجاعت اور بہادری میں اس کی بہت شہرت تھی۔صحابہ اُسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔اس نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کی کہ میں اس شرط پر آپ کے ساتھ لڑائی میں شامل ہونے آیا ہوں کہ مال غنیمت سے مجھے بھی حصہ دیا جائے۔آپ نے فرمایا : کیا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہو۔اس نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا پھر تم جا سکتے ہو۔میں کسی مشرک سے مدد نہیں لینا چاہتا۔کچھ دیر بعد اس نے حاضر ہو کر پھر یہی درخواست کی۔تو آپ نے وہی جواب دیا، وہ تیسری دفعہ آیا اور عرض کیا کہ مجھے بھی لشکر میں شریک کر لیں۔آپ نے پھر پوچھا کہ اللہ اور رسول پر ایمان لاتے ہو۔اس دفعہ اس نے ہاں میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا ٹھیک ہے، ہمارے ساتھ چلو۔(مسلم کتاب الجہاد باب كراهة الاستعانة فى الغزو بكافر۔۔۔۔۔حديث نمبر 4700) اگر کوئی دنیا دار ہوتا تو کہتا کہ مد دل رہی ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ۔لیکن آپ کی غیرت نے