خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 64
خطبات مسرور جلد سوم 64 خطبہ جمعہ 4 فروری 2005ء وعدوں کے مطابق آپ کی حفاظت کرنی تھی وہ ہمیشہ مشکل وقت میں آپ کی مدد کے لئے فرشتے نازل کرتا رہا جو آپ کی حفاظت کا انتظام کرتے تھے۔چنانچہ ایک واقعہ روایات میں یوں آتا ہے کہ : ” سرداران قریش کے ساتھ گفتگو کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو ابو جہل نے کہا اے قریش ! تم نے دیکھا کہ محمد نے ہماری کوئی بات نہیں مانی اور تمہارے بزرگوں اور مذہب کو برا کہنے سے باز نہ آیا۔پس میں خدا سے عہد کرتا ہوں کہ میں کل ایک بہت بھاری پتھر لے کر بیٹھوں گا اور جس وقت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سجدہ کریں گے میں اس کے سر پر ماردوں گا۔تم مجھ کو اپنی پناہ میں لے لینا۔پھر بنی عبد مناف یعنی حضور کے رشتہ داروں سے جو ہو سکتا ہے وہ کریں۔قریش نے کہا خدا کی قسم ! ہم تمہیں پناہ میں لے لیں گے جو کچھ تم سے ہو سکے وہ کر گزرو۔پھر جب صبح ہوئی تو ابو جہل ایک پتھر لا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے انتظار میں بیٹھا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صبح کو اپنے دستور کے موافق مسجد حرام میں داخل ہوئے۔چونکہ ان دنوں میں قبلہ بیت مقدس تھا اس لحاظ سے آپ حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان میں نماز میں مشغول ہوئے۔قریش اپنی اپنی جگہ لیٹے ہوئے ابو جہل کے کارنامے کے منتظر تھے۔چنانچہ جس وقت آپ نے سجدہ کیا، ابو جہل وہ پتھر لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مارنے کے لئے چلا۔یہاں تک کہ جب آپ کے نزدیک پہنچا تو پھر وہاں سے پیچھے کو ہٹا۔یہاں تک کہ پتھر اس کے ہاتھ سے گر گیا اور وہ نہایت بد حواس اور خوف کی حالت میں اپنی قوم کے پاس آیا۔لوگ بھی اس کی طرف دوڑے اور کہا اے ابو الحکم کیا ہوا؟ کہنے لگا کہ جب میں پتھر لے کر ان کی طرف گیا تا کہ اس کام کو پورا کروں جو رات کو تم سے کہا۔تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نہایت قوی ہیکل اور خوفناک اونٹ منہ پھاڑ کر میری طرف حملہ آور ہے اور چاہتا ہے کہ مجھے کھا جائے۔میں فوراہی پیچھے ہٹ گیا ورنہ جان بچانا ہی مشکل تھا۔صلى الله (السيرة النبوية لابن هشام ما حدث لابى جهل حين هم بالقاء الحجر على الرسول ﷺ تو دیکھیں کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی حفاظت کا انتظام فرمایا۔لیکن جس کا دل پتھر ہو جائے وہ عارضی طور پر تو نشان دیکھ کر خوفزدہ ہوتا ہے لیکن ایمان کے نور کا چھینٹا اس پر