خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 451 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 451

خطبات مسرور جلد سوم 451 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005 ء وجہ سے اللہ تعالیٰ برکت بھی ڈالتا ہے۔مجھے یاد ہے ربوہ میں جب جلسے ہوتے تھے یا جب تک میں وہاں رہا، جلسوں کی ڈیوٹیاں دیتا رہا، تو روزانہ رات کو متوقع مہمانوں کی حاضری کو سامنے رکھتے ہوئے اور جو اس دن کھانا استعمال ہوا تھا، اس دن کی جو حاضری تھی اس کو سامنے رکھتے ہوئے ، یہی طریق کار ہے کہ افسر جلسہ سالانہ کی طرف سے اگلے دن کا جو آرڈر ملا کرتا تھا کہ اتنا کھانا پکانا ہے، اتنی روٹی پکانی ہے۔تو میں نے یہ دیکھا ہے کہ عموماً اتنی تعداد میں روٹی پکا نہیں کرتی تھی کیونکہ کچھ دیر پہلے تک کے جو اندازے ہوتے تھے روٹی کی تعداد اتنی ہی ہوتی تھی۔لیکن جب آخری وقت آتا تھا تو جو روٹی تقسیم ہوتی تھی وہ اتنے مہمانوں کی یا اس سے زیادہ کی ہوتی تھی جتنا کہ آرڈر دیا جا تا تھا۔تو یہ ھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس وقت بڑی پریشانی ہوا کرتی تھی کہ روٹی پوری کس طرح ہو گی مہمان بھوکے رہ جائیں گے، ابھی شور پڑ جائے گا، ابھی خلیفہ اسیح کور پورٹ ہو جائے گی کہ مہمان بھوکے رہ گئے۔اور پھر بڑی فکر میں اور دعاؤں میں وقت گزرا کرتا تھا۔تو اللہ تعالیٰ ایسے انتظامات فرما دیتا تھا کہ یا تو لوگوں کے پیٹ چھوٹے ہو جاتے تھے یا کیا وجہ ہوتی تھی ، بہر حال لوگ پیٹ بھر کر کھانا بھی کھا لیتے تھے اور ہمیشہ یہی ہوتا تھا کہ اس کم روٹی سے اتنی ہی تعداد میں یا اس سے زیادہ تعداد میں لوگوں نے کھانا کھایا ہے۔بعض دفعہ اتنی کمی ہوتی تھی کہ اگر تعداد کو گنا جائے تو ایک ایک آدمی کا کھانا جو تھا وہ تین تین کے لئے کافی ہوا کرتا تھا۔تو یہ برکت کے نظارے ہمیں جلسے کے دنوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت نظر آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ خوراک میں برکت ڈالتا ہے۔پھر مہمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ نے ارشاد فرمایا ہے جس پر اگر عمل کیا جائے تو دونوں طرف کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔فرمایا کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کی تکریم کرے۔اس کی پر تکلف مہمان نوازی ایک دن رات ہے جبکہ عمومی مہمان نوازی تین دن تک ہے۔اور تین دن سے زائد صدقہ ہے۔مہمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اتنا عرصہ میزبان کے پاس ٹھہرار ہے کہ جو اس کو تکلیف میں ڈال دے۔(بخارى - كتاب الادب - باب اكرام الضيف وخدمته اياه بنفسه |