خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 441
خطبات مسرور جلد سوم 441 خطبہ جمعہ 22 جولائی 2005ء اسی طرح ایک دفعہ آسام سے کچھ مہمان آئے اور جب لنگر خانہ میں آکے اترے تو لنگر خانہ کے عملے کے رویہ کی وجہ سے ناراض ہو کر اسی طرح اسی ٹانگے پہ بیٹھ کے واپس چلے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب پتہ لگا تو آپ بڑے ناراض ہوئے کہ کیوں ایسی صورت پیدا ہوئی۔اور فوری طور پر اس طرح کہ جوتے پہننا بھی مشکل تھا جلدی جلدی جوتے پہنے اور ان کے پیچھے تیز تیز قدموں سے گئے حالانکہ وہ تانگے پر تھے دور نکل چکے تھے لیکن آپ پیدل ان کے پیچھے پیچھے گئے اور روایت میں آتا ہے کہ نہر پہ پہنچ کے آپ نے ان کو وہاں روک لیا اور پھر ان کو واپس لے کر آئے۔پھر مہمانوں کو کہا کہ آپ ٹانگے پر بیٹھ کر چلیں میں پیدل چلتا ہوں۔بہر حال اس خلق کو دیکھ کر مہمان بھی شرمندہ تھے۔وہ شرمندگی سے کہیں نہیں حضور ہم تو نہیں بیٹھیں گے ساتھ ہی چلے۔پھر بہر حال واپس قادیان آئے لنگر میں آکے آپ نے خود سامان اتارنے کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن کیونکہ کارکنان کو شرمندگی کا احساس تھا انہوں نے فوری طور پر آگے بڑھ کر سامان اتارا۔تو پھر ان لوگوں کی خوراک کے بارے میں کیونکہ یہ آسام کے لوگ تھے خاص خوراک کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انتظام فرمایا۔ایک روایت حضرت مفتی محمد صادق صاحب بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آیا ہوا تھا۔غالباً 1897 ء یا 1898 ء کا واقعہ ہو گا۔مجھے حضرت صاحب نے مسجد مبارک میں بٹھایا جو کہ اس وقت ایک چھوٹی سی جگہ تھی۔فرمایا کہ آپ بیٹھنے میں آپ کے لئے کھا نالا تا ہوں۔یہ کہہ کر آپ اندر تشریف لے گئے۔میرا خیال تھا کہ کسی خادم کے ہاتھ کھانا بھیج دیں گے۔مگر چند منٹ کے بعد جبکہ کھڑ کی کھلی تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ اپنے ہاتھ سے سینی اٹھائے ہوئے ( طشتری اٹھائے ہوئے ، ٹرے اٹھائے ہوئے ) میرے لئے کھانا لائے ہیں۔مجھے دیکھ کر فرمایا کہ آپ کھانا کھائیے میں پانی لاتا ہوں۔کہتے ہیں کہ بے اختیار رفت سے میرے آنسو نکل آئے کہ جب حضرت ہمارے مقتداء اور پیشوا ہو کر ہمارے لئے یہ خدمت کرتے ہیں تو ہمیں آپس میں ایک دوسرے کی کس قدر خدمت کرنی چاہئے۔پھر ایک دفعہ جب مہمانوں کی زیادتی کی وجہ سے بستر بہت کم ہو گئے تو اپنے گھر میں جو