خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 350
خطبات مسرور جلد سوم 350 خطبہ جمعہ 10 / جون 2005ء کا خوف اور اس کی خشیت ہمارے دلوں میں قائم ہو اور ہم اس قرآنی حکم پر عمل کرنے والے ہوں که وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَطَمَعًا - إِنَّ رَحْمَةَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِين (الاعراف: 57) یعنی اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فسادنہ پھیلاؤ اور اسے خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے رہو۔یقینا اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب رہتی ہے۔پس جب ہم اللہ تعالیٰ کا خوف دلوں میں قائم رکھتے ہوئے اسے پکاریں گے اور ہمیں کوئی خواہش، کوئی لالچ ہو گا تو صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائے۔اور ہمیں ان انعاموں کا وارث بنائے جن کا ذکر اس نے انبیاء کے ذکر میں قرآن کریم میں کیا ہے۔اور ان دعاؤں کا وارث بنائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے کی ہیں۔ان نیکیوں پر قائم کرے جن کی توقع حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ماننے والوں سے کی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت ہمیں ہمیشہ اپنی چادر میں لیٹے رکھے اور کبھی ہمارا شمار ان فسادیوں میں نہ ہو جن کا اس آیت کے شروع میں ذکر آیا ہے اور جو اصلاح کے بعد پھر بگڑ جاتے ہیں۔بلکہ ہمارا ہر فعل اللہ تعالیٰ کے پیار کو سمیٹنے والا ہو۔اللہ کرے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں کہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ، اس بات سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔بعض چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو جھوٹی آنا کے شیطانی چکر میں انسان کو پھنسا دیتی ہیں۔اور بغیر دیکھے سوچے بدظنیوں پر بنیاد کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں اور سخت کلمات تک جا پہنچتی ہیں۔ہر احمدی کو یہ سوچنا چاہئے کہ اس نے زمانے کے امام کو مان کر جو عہد کیا ہے کہیں وہ ان باتوں کے کرنے سے یا صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے سے یا بدظنیوں کی وجہ سے یا دوسرے کو حقیر سمجھنے سے اور تکبر کی وجہ سے وہ اس عہد کو توڑنے والا تو نہیں بن رہا۔پس جب آپ اس سوچ کے ساتھ اپنے جائزے لے رہے ہوں گے، ہر کوئی اپنا جائزہ لے رہا ہوگا تو جہاں آپ اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندوں میں شمار ہو رہے ہوں گے وہاں محبتوں کی خوشبو بھی فضا میں بکھیر رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو ایسے عملوں کی توفیق دے