خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 26
خطبات مسرور جلد سوم 26 خطبہ جمعہ 14 جنوری 2005ء سے فرمائے گا۔حالانکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے کہ میرے بندے کی نماز کو دیکھو کیا اس نے اسے مکمل طور پر ادا کیا تھا یا نامکمل چھوڑ دیا۔پس اگر اس کی نماز مکمل ہوگئی تو اس کے نامہ اعمال میں مکمل نماز لکھی جائے گی۔اور اگر اس نماز میں کچھ کمی رہ گئی ہوگی تو فرمایا کہ دیکھیں کیا میرے بندے نے کوئی نفلی عبادت کی ہوئی ہے پس اگر اس نے کوئی نفلی عبادت کی ہوگی تو فرمائے گا کہ میرے بندے کی فرض نماز میں جو کمی رہ گئی تھی وہ اس کے نفل سے پوری کر دو۔پھر تمام اعمال کا اسی طرح مواخذہ کیا جائے گا۔( ابوداؤد كتاب الصلوة باب قول النبي كل صلاة لا يتمها صاحبها تتم من تطوعه) پس ایک احمدی کے معیار یہ ہونے چاہئیں نہ کہ یہ کہ اپنی دنیاوی ضروریات کے لئے نمازوں کو ٹال دیا جائے۔اپنے نامہ اعمال کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا، کیا ہے اور کیا نہیں۔اس لئے ایک فرض جو اللہ نے بندے کے ذمے لگایا ہے۔اسے پورا کرنے کی کوشش ہونی چاہئے تا کہ کسی بھی قسم کے محاسبہ سے بچ کے رہے۔اللہ سب کو اس کی تو فیق عطا فرمائے۔پھر نمازوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ذرا غور کریں کہ اگر کسی کے دروازے کے پاس سے نہر گزرتی ہو۔وہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی رہ جائے گی۔صحابہ نے عرض کی اس کی میل میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے۔اللہ ان کے ذریعے خطاؤں کو معاف کر دیتا ہے ( بخاری کتاب مواقيت الصلوة باب الصلوات الخمس كفارة) پس یہ اللہ تعالیٰ کے معاف کرنے طریقے ہیں اپنے بندوں پر شفقت اور ان کے لئے بخشش کے سامان مہیا کرنے کے طریقے ہیں جس سے جتنا بھی کوئی فائدہ اٹھا لے گا اتنی ہی اپنی دنیا و آخرت سنوار نے والا ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” نماز اصل میں دعا ہے۔نماز کا ایک