خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 25

خطبات مسرور جلد سوم 25 خطبہ جمعہ 14 جنوری 2005ء تَصْنَعُونَ (العنکبوت: 46) کہ تو کتاب میں سے جو تیری طرف وحی کیا جاتا ہے پڑھ کر سنا اور نماز کو قائم کر یقیناً نماز بے حیائی اور ہر نا پسندیدہ بات سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر یقیناً سب ذکروں سے بڑا ہے۔اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو تو نماز قائم کرنے سے مراد ایک تو با جماعت نمازوں کی ادائیگی ہے اور خاص طور پر ان نمازوں کی ادائیگی کی طرف توجہ بھی دلائی ہے۔ایک اور جگہ ایک اور آیت میں بھی توجہ دلائی گئی ہے یہاں بھی اس سے مراد یہی ہے کہ تمہاری سنتی یا کاروباری مصروفیات کی وجہ سے وقت پر اور باجماعت نمازیں ادا نہیں کی جار ہیں، ان کو ادا کرو، نماز قائم کرو، باجماعت ادا کرو۔تو یا د رکھو کہ اگر تم نمازوں کی ادائیگی کی طرف متوجہ ہو گئے تو دنیا کی بے حیائی اور لغو باتوں سے جن میں آج کل کی دنیا پڑی ہوئی ہے۔خاص طور پر اس معاشرے میں یورپ کے معاشرے میں، تو ان چیزوں سے تم بچ کے رہو گے۔اس لئے ان کی طرف خود بھی توجہ دو اور اپنے بچوں کو بھی اس طرف توجہ دلاتے رہو۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہی ہے اس کی عبادت ہی ہے جو ہر دنیوی چیز سے بالا ہے۔اس لئے تمہیں اگر کسی چیز کی فکر کرنی چاہئے تو اس کی عبادت کی طرف توجہ اور وقت پر نمازوں کی طرف توجہ کی فکر کرنی چاہئے۔یاد رکھو اللہ سب جانتا ہے کہ تم کیا کر رہے ہو۔اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔اس لئے دو عملی نہیں چلے گی۔قول اور فعل میں تضاد مشکل ہے۔اگر تم اس فکر سے نمازوں کی طرف توجہ دو گے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے اور دنیاوی معاملات ایک طرف رکھ کر اس کے حضور حاضر ہو جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری اس نیک نیت اور اس کی عبادت کرنے کی وجہ سے تمہارے دنیوی معاملات میں بھی برکت ڈالے گا۔ورنہ عبادت کی طرف توجہ نہ دینے سے تمہارے کا روبار میں بے برکتی رہے گی۔تمہاری اولادوں کے بھی صحیح راستے پر چلنے کی کوئی ضمانت نہیں رہے گی اور پھر مرنے کے بعد تمہارا محاسبہ بھی ہوگا تمہاری نمازوں کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ صحیح طور پر ادا کی گئی تھیں یا نہیں کی گئی تھیں۔ایک روایت میں آتا ہے۔یونس کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کے اعمال میں سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس بات کا محاسبہ کیا جائے گاوہ نماز ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارا رب عز و جل فرشتوں