خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 291
خطبات مسرور جلد سوم 291 (18) جمعہ 13 رمئی 2005ء ہماری کامیابی کی ضمانت تقویٰ کا اعلیٰ معیار خطبه جمعه فرموده 13 رمئی 2005ء بمقام مسجد سلام ، دارالسلام، تنزانیہ (مشرقی افریقہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : حقیقی تقویٰ کے ساتھ جاہلیت جمع نہیں ہو سکتی۔حقیقی تقویٰ اپنے ساتھ ایک نور رکھتی ہے۔جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے:۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ سَيَّاتِكُمْ (الانفال : 30) وَيَجْعَل لَّكُمُ نُورًا تَمُشُونَ بِهِ (الحديد: 29) یعنی اے ایمان لانے والو! اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گا۔وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے۔یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قومی اور حواس میں آجائے گا۔تمہاری عقل میں بھی نور ہوگا۔تمہاری ایک انکل کی بات میں بھی نور ہوگا۔اور تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہوگا اور تمہارے کانوں اور تمہاری