خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 200
خطبات مسرور جلد سوم 200 خطبہ جمعہ یکم اپریل 2005ء لوں۔میں نے کہا خدا کی قسم مجھے تو آپ کی خواہش کا احترام ہے اور آپ کا قرب پسند ہے۔میری طرف سے آپ کو اجازت ہے۔تب آپ اٹھے۔مشکیزہ سے وضو کیا اور نماز کیلئے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنی شروع کی اور اس قدر روئے کہ آنسو آپ کے سینے پر گرنے لگے اور نماز کے بعد دائیں طرف ٹیک لگا کر اس طرح بیٹھ گئے کہ آپ کا دایاں ہاتھ آپ کی دائیں رخسار کے نیچے تھا۔پھر رونا شروع کر دیا یہاں تک کہ آپ کے آنسو زمین پر ٹپکنے لگے۔فجر کی نماز کے وقت حضرت بلال بلانے کیلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کو اس طرح گریہ وزاری کرتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! آپ اتنا کیوں روتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ آپ کے گزشتہ اور آئندہ ہونے والے سارے گناہ بخش چکا ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں اور میں کیوں نہ روؤں کہ آج رات میرے رب نے یہ آیات نازل کی ہیں۔وہ آیات ہیں آل عمران کی اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ - وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النار ( آل عمران: 191-192) یعنی یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں ، رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔اور اے ہمارے رب تو ہمیں آگ کے عذاب سے بھی بچانا۔پھر دوسری روایت میں اس کا ذکر اس طرح ملتا ہے کہ حضرت عائشہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ کو اتنا رونا کیوں آرہا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ہونے والے گناہ بخش دیئے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔اور میں ایسا کیوں نہ کروں جبکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اس رات اپنی یہ آیات نازل فرمائی ہیں وإِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتٍ لِّأُوْلِي الْأَلْبَابِ - الَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَّ قُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ - رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا - سُبْحْنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ ( آل عمران: 191-192) تک آیات