خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 186
خطبات مسرور جلد سوم 186 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء کے زیادہ قریب پہنچ کر پڑاؤ ڈالا۔قریش اس وقت تک ٹیلے کے پرے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے اور چشمہ خالی پڑا تھا۔مسلمانوں نے وہاں پڑاؤ ڈال کر چشمے کو اپنے قبضے میں کر لیا۔اور پھر آپ نے کنوؤں کے بارے میں ارشاد فرمایا اور ان کا پانی گہرا کر دیا گیا۔اور جس کنویں پر آپ نے خود پڑا ؤ فرمایا تھا اس کو پانی سے بھر دیا گیا۔(السيرة النوية لابن هشام، ذكر غزوة البدر الكبرى مشورة الحُباب على الرسول الله ﷺ تو جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ جنگیں جب مسلمانوں پر ٹھونسی گئیں تو مجبور مسلمانوں کو بھی اپنے بچاؤ کے سامان کرنے پڑے۔جنگ بدر میں، جنگ کے بعد جب مسلمان جنگ جیت گئے تو بہت سے کفار قیدی بنائے گئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد نہ تو کفار کو قتل کرنا تھا نہ قیدی بنا کر رکھنا تھا۔آپ کی خواہش تو یہ تھی کہ یہ جو جنگ کی مجبوری کی وجہ سے قیدی بن گئے ہیں ان کے ساتھ کس طرح زیادہ سے زیادہ نرمی کا سلوک کیا جاسکتا ہے یا ان کو آزاد کر دیا جائے۔لیکن آپ اپنی اس رائے کو ، اس خواہش کو دوسروں کی رائے پر فوقیت نہیں دینا چاہتے تھے باجود اس کے کہ آپ جو بھی فیصلہ فرماتے صحابہ نے اس کو بخوشی قبول کرنا تھا لیکن آپ کی محتاط طبیعت نے اس بات کو گوارا نہ کیا اور پھر آپ کا ویسے بھی یہ طریق تھا کہ قومی معاملات میں رائے اور مشورہ لے لیا کرتے تھے۔اس لئے آپ نے ان قیدیوں کے بارے میں کہ کیا سلوک کیا جائے مشورے کے لئے معاملہ رکھا اور اس کا روایت میں اس طرح ذکر آتا ہے۔حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے اسیران بدر کے بارے میں مشورہ طلب فرمایا آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو ان لوگوں میں سے بعض پر غلبہ عطا فرمایا ہے۔حضرت عمر بن خطاب کھڑے ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ! ان کو قتل کروا دیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض فرمایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بارا اپنی بات دوہرائی اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر غلبہ عطا فرمایا ہے جبکہ کل تک وہ تمہارے بھائی تھے۔حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ انہیں قتل کروا دیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اعراض فرمایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار اپنی بات دوہرائی۔اس