خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 171
خطبات مسرور جلد سوم 171 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء آئے ہوئے تھے تو آپ نے کھجوروں اور لکڑیوں کا تحفہ لے کے مجھے مٹھی بھر زیور عطا فرمایا۔ایک دوسری روایت میں تو یہ بھی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بھر کر سونے کے زیور ربیعہ کو دیئے اور فرمایا یہ زیور پہن لو۔صلى الله (مجمع الزوائد للهيثمي كتاب علامات النبوة باب في جوده (ﷺ) تو یہ تھا آپ کی سخاوت کا انداز کہ کھجوروں اور کٹڑیوں کے بدلے میں سونا عنایت فرما رہے ہیں۔یہ نہیں خیال آیا کہ معمولی سا تحفہ کسی نے مجھے بھیجا ہے، غریب آدمی ہے تو چلو کوئی معمولی سی چیز اس کو لوٹا دی جائے یا اس سے بہتر چیز اس کو لوٹا دی جائے۔نہیں۔بلکہ اس کے بدلے میں آپ نے سونا عنایت فرمایا۔اب ان سخاوت کے نظاروں کی مثال دنیا میں ہمیں کہاں نظر آتی ہے؟ سوائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے۔پھر ایک اور روایت میں حضرت محمد بن حصین اپنی دادی ام سنبلہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تحفہ لائیں۔آپ کی ازواج مطہرات نے اسے قبول نہ کیا۔(اس وقت کوئی وجہ ہو گی) بہر حال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ لگا تو آپ نے حکم دیا اور انہوں نے رکھ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بدلے میں انہیں ایک وادی عطا فرمائی۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة - كتاب النساء – ام سنبلة الاسلمية) ایک بہت بڑا رقبہ عطا فر مایا چھوٹے سے تحفے کے بدلے میں۔پھر آپ اپنے قریبیوں سے تعلق رکھنے والوں کا بھی خوب خیال رکھا کرتے تھے، نوازا کرتے تھے۔چنانچہ روایت میں آتا ہے حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی تحفہ آتا تھا تو فرمایا کرتے تھے کہ یہ فلاں عورت کو دے آؤ کیونکہ وہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی دوست تھی اور فلاں کو بھی دے آؤ کیونکہ وہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے پیار کرتی تھی۔(كتاب الشفاء ، للقاضي عياض الباب الثاني ، الفصل الثامن عشر ) عموماً یہی ہوتا تھا کہ آپ کسی کو نواز نے کے لئے ذرائع تلاش کرتے تھے کہ کس طرح اس کو فائدہ پہنچایا جائے۔ہو سکتا ہے بعض دفعہ بعض حالات کا علم ہو جانے کے بعد بھی یہ نوازشات