خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 91

$2004 91 مسرور پھر حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں منہ چھپانے کا حکم نہیں ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ قرآن کریم تو کہتا ہے کہ زینت چھپاؤ اور سب سے زیادہ زینت کی چیز چہرہ ہی ہے اگر چہرہ چھپانے کا حکم نہیں تو پھر زینت کیا چیز ہے جس کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔بے شک ہم اس حد تک قائل ہیں کہ چہرے کو اس طرح چھپایا جائے کہ اس کا صحت پر کوئی برا اثر نہ پڑے مثلاً باریک کپڑا ڈال لیا جائے یا عرب عورتوں کی طرز کا نقاب بنالیا جائے جس میں آنکھیں اور ناک کا نتھنا آزا در ہوتا ہے۔مگر چہرے کو پردے سے باہر نہیں رکھا جا سکتا۔( تفسیر کبیر جلد ششم صفحه ۱۰۳) پھر فرمایا کہ جو جو عورتیں بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو جائیں اور نکاح کے قابل نہ رہیں وہ اگر معروف پردہ چھوڑ دیں تو جائز ہے ہاں خواہ مخواہ زیور پہن کر اور بناؤ سنگار کر کے باہر نہ نکلیں یعنی پردہ ایک عمر تک ہے اس کے بعد پردہ کے احکام ساقط ہو جاتے ہیں۔ہمارے ملک نے پردہ کے احکام کو ایسی بری طرح استعمال کیا ہے کہ جوان عورتیں پردہ چھوڑ رہی ہیں۔اور بوڑھی عورتوں کو جبراً گھروں میں بٹھایا جارہا ہے۔عورت کا چہرہ پردہ میں شامل ہے ورنہ أَنْ يُضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ کے یہ معنے کرنے پڑیں گے کہ مونہہ اور ہاتھ تو پہلے ہی ننگے تھے اب سینہ اور باز و بھی بلکہ سارا بدن بھی ننگا کرنا جائز ہو گیا حالانکہ اسے کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔( تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ ۳۹۷،۳۹۶) ہوتا یہی ہے کہ اگر پردہ کی خود تشریح کرنی شروع کر دیں اور ہر کوئی پردے کی اپنی پسند کی تشریح کرنی شروع کر دے تو پردے کا تقدس کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔اس لئے ماں باپ دونوں کو اپنی اولاد کے پردے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اور یہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔اب کسی نے لکھا کہ مغربی ملک میں ملازمت کے سلسلہ میں ایک یونیفارم ہے جس میں جینز اور بلاؤز یا سکرٹ استعمال ہوتا ہے تو کیا میں یہ پہن کر کام کر سکتی ہوں۔اس کو میں نے جواب دیا کہ اگر لمبا کوٹ پہن کر اور سکارف سر پر رکھ کر کام کرنے کی اجازت ہے تو ٹھیک ہے ورنہ کوئی اجازت نہیں۔