خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 90
90 $2004 خطبات مسرور تو اس تفصیل سے پردے کی حد کی بھی کافی حد تک وضاحت ہوگئی کہ کیا حد ہے۔چہرہ چھپانے کا بہر حال حکم ہے۔اس حد تک چہرہ چھپایا جائے کہ بے شک ناک نگا ہو اور آنکھیں نگی ہوں تا کہ دیکھ بھی سکے اور سانس بھی لے سکے۔چہرہ کا پردہ کیوں ضروری ہے اس بارہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے احادیث سے یہ دلیل دی ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے ایک صحابیہ کوکسی لڑکی کا رشتہ آیا تھا، اس کی شکل دیکھنے کے لئے بھیجا تا کہ دیکھ کر آئیں۔اگر چہرہ کا پردہ نہ ہوتا تو ظاہر ہے کہ پھر تو ہر ایک نے شکل دیکھی ہوتی۔پھر دوسری مرتبہ یہ واقعہ حدیث میں بیان ہوتا ہے کہ جب ایک لڑکے کو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم فلاں لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہو۔تم نے اس کو دیکھا ہے؟ اگر نہیں دیکھا تو جا کر دیکھ آؤ۔کیونکہ پردے کا حکم تھا بہر حال دیکھا نہیں ہوگا۔تو جب وہ اس کے گھر گیا اور لڑکی کو دیکھنے کی خواہش کی تو اس کے باپ نے کہا کہ نہیں اسلام میں پردے کا حکم ہے اور میں تمہیں لڑکی نہیں دکھا سکتا۔پھر اس نے آنحضرت ﷺ کا حوالہ دیا تب بھی وہ نہ مانا۔بہر حال ہر ایک کی اپنی ایمان کی حالت ہوتی ہے۔اسلام کے اس حکم پر اس کی زیادہ بختی تھی بجائے اس کے کہ آنحضرت ﷺ کے حکم کو موقعہ محل کے مطابق تسلیم کرتا اور مانتا۔تو لڑکی جو اندر بیٹھے یہ باتیں سن رہی تھی وہ باہر نکل آئی کہ اگر آنحضرت ﷺ کا حکم ہے تو پھر ٹھیک ہے میرا چہرہ دیکھ لو۔تو اگر چہرہ کے پردہ کا حکم نہیں تھا تو حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں کہ پھر آنحضرت مے نے یہ کیوں فرمایا۔ہر ایک کو پتہ ہوتا کہ فلاں لڑکی کی یہ شکل ہے اور فلاں کی فلاں شکل۔اسی طرح ایک موقع پر آنحضرت ﷺ اعتکاف میں تھے۔رات کو حضرت صفیہ کو چھوڑنے جا رہے تھے تو سامنے سے دو آدمی آ رہے تھے ان کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا گھونگھٹ اٹھاؤ اور فرمایا دیکھ لو یہ میری بیوی صفیہ ہی ہے۔کوئی شیطان تم پر حملہ نہ کرے اور غلط الزام لگانا نہ شروع کر دو۔تو چہرے کا پردہ بہر حال ہے۔