خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 936 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 936

خطبات مسرو 936 $2004 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی صحابہ کو شادی کی اکثر تلقین فرماتے رہتے تھے بلکہ بار بار توجہ دلاتے رہتے تھے۔اور بعض دفعہ جب کسی کا رشتہ طے کرواتے تو خود بھی بڑی دلچسپی لے کر ذاتی طور پر انتظامات فرماتے۔اسی طرح کی ایک روایت حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔(لمبی روایت ہے ) مسند احمد بن حنبل میں آئی ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ (حضرت ربیعہ ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے ایک دفعہ رسول کریم نے فرمایا ربیعہ ! شادی نہیں کرو گے۔تو انہوں نے عرض کی نہیں پھر کچھ عرصے بعد آپ نے فرمایا ربیعہ اشادی نہیں کرو گے تو انہوں نے کہا نہیں۔ربیعہ نے خود ہی سوچا کہ میرا برا بھلا چاہنے والے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ کیا بھلا ہے کیا برا ہے۔اگر اب مجھ سے پوچھا تو میں ہاں میں جواب دوں گا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری دفعہ پوچھا تو انہوں نے ہاں میں جواب دیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ ! اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار کے فلاں خاندان کی طرف جاؤ اور ان کو میرا پیغام دو کہ فلاں لڑکی سے تمہاری شادی کر دیں۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام پر اس نے فور التسلیم کر لیا اور ان کی شادی اس لڑکی سے ہو گئی۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ولیمہ کا انتظام بھی سارا خود فرمایا اور خود ولیمے میں شامل بھی ہوئے اور دعا بھی کروائی۔(مسند احمد بن حنبل۔جلد ۴ صفحہ ۵۸) ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ جب کسی شخص کے پاس کوئی یتیم لڑکی ہوتی تو وہ اس پر ایک کپڑا ڈال دیتا تھا۔جب وہ کپڑا ڈال دیتا تھا تو کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ کوئی اس لڑکی سے نکاح کر سکے۔اگر تو وہ خوبصورت اور صاحب مال ہوتی تو وہ خود اس سے نکاح کر لیتا اور اس کا مال کھا جاتا۔اور شکل وصورت زیادہ اچھی نہ ہوتی اور مالدار ہوتی تو وہ شخص اس کو ساری عمر اپنے پاس روک لیتا یہاں تک کہ وہ مرجاتی۔جب وہ مرجاتی تو اس کے مال ومتاع کا وہ مالک بن جاتا۔