خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 937 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 937

937 $2004 خطبات مسرور تو عرب کے یہ حالات تھے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بیواؤں اور یتیموں کی شادیوں کی طرف توجہ دلائی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خاص دلچسپی لے کر اپنے صحابہ اور صحابیات کی شادیاں کروائیں اور اس حکم پر عمل کروایا اور تلقین فرمائی کہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے پر عورت و مرد کی شادی کر دو۔بیوائیں بھی اگر جوانی کی عمر میں ہیں یا شادی کی خواہش مند ہیں تو ان کی شادیاں کرو۔اور صرف ذاتی دنیاوی فائدے اٹھانے کے لئے گھروں میں لڑکیوں کو بٹھائے نہ رکھو۔اور نہ ہی لڑکوں کی اس لئے شادیوں میں تاخیر کرو۔تو یہ اب پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ قابل شادی لوگوں کی شادیاں کروانے کی طرف توجہ دے۔اس زمانے میں بڑی فکر کے ساتھ قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کوشش فرمائی ہے۔اور خاص طور پر یہ کوشش اور توجہ فرمائی کہ احمدی لڑکیوں اور لڑکوں کے رشتے جماعت میں ہی ہوں تا کہ آئندہ نسلیں دین پر قائم رہنے والی نسلیں ہوں۔آپ نے جماعت میں رشتے کرنے کے بارے میں آپس میں بڑی تلقین فرمائی ہے۔ان لوگوں کے لئے جو غیروں میں رشتے کرتے ہیں۔یہ ان کے لئے ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ چونکہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم اس کی بزرگ عنایات سے ہماری جماعت کی تعداد میں بہت ترقی ہو رہی ہے اور اب ہزاروں تک اس کی نوبت پہنچ گئی اور عنقریب بفضلہ تعالیٰ لاکھوں تک پہنچنے والی ہے۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے کروڑوں تک پہنچی ہوئی ہے۔" اس لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ ان کے باہمی اتحاد کے بڑھانے کے لئے اور نیز ان کو اہل اقارب کے بداثر اور بدنتائج سے بچانے کے لئے لڑکیوں اور لڑکوں کے نکاح کے بارے میں کوئی احسن انتظام کیا جائے۔یہ تو ظاہر ہے کہ جو لوگ مخالف مولویوں کے زیر سایہ ہوکر متعصب اور عناد اور بخل اور عداوت کے پورے درجہ تک پہنچ گئے ہیں ان سے ہماری جماعت کے نئے رشتے غیر ممکن ہو گئے ہیں جب تک کہ وہ تو بہ کر کے اسی جماعت میں داخل نہ ہوں۔اور اب یہ جماعت کسی بات میں