خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 898
898 $2004 خطبات مسرور زمانے کی حکومت کے ان کو پورا کرنے کے لئے جو قدم اٹھایا گیا تھا اس سے سوائے ملک میں بدامنی اور بے چینی کے ملک کو کچھ اور نہیں ملا، بے چینی اور بدامنی ضرور ملی ہے۔یہ اظہار کرتے ہیں غیر بھی۔پھر بھی ملاں کے پیچھے چلتے ہیں۔بہر حال اس وقت تو میں اس کی تفصیل نہیں بتارہا۔ایک قانون کا ذکر یہاں کرنا ہے جو چند سال سے بنا ہوا ہے پاکستان میں۔ہتک رسول کا قانون ہے۔اور ملاں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح احمدیوں کو اس قانون کے تحت پھنسایا جائے اور الزام لگایا جائے اور بعض بظاہر جو بڑے پڑھے لکھے کہلاتے ہیں۔پڑھے لکھے سے مراد ہے بظاہر پڑھے لکھے۔ہیں تو پڑھے لکھے ہی قانون دان ہیں، حکومتوں کے حج ہیں۔یہ مولوی کے ڈر سے یا اللہ کے خوف کی کمی کی وجہ سے یا جو بھی وجہ ہو احمدیوں کو اس ہتک رسول کے الزام کے تحت سزا دے دیتے ہیں، بغیر تحقیق کے کہ حقائق کیا ہیں۔باوجود یہ پتہ ہونے کے کہ مولوی جھوٹ بھی بولتا ہے اور جھوٹی گواہیاں بھی دلواتا ہے احمدی کے خلاف فیصلہ سنادیتے ہیں۔ابھی گزشتہ دنوں ہی ایک احمدی کو جنہوں نے چند سال ہوئے بیعت کی تھی ، نوجوان آدمی تھا اس کے خلاف گاؤں کے ایک مولوی نے ایف آئی آر کٹوائی کہ یہ میرے پاس مسجد میں آیا تھا اور ایک دوسوالوں کے بعد کہا کہ تمہارا نبی جھوٹا ہے۔نعوذ باللہ۔اور الفاظ بھی کیسے لکھتے ہیں ایف آئی آر اس وقت میرے پاس ہے ان کی حالت دیکھیں۔کہ میں فلاں جگہ کا مولوی ہوں اور میرے پاس فلاں فلاں آدمی موجود تھے کہ اقبال ولد فقیر محمد قوم فلاں جو احمدی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے اچانک میرے پاس آیا اور مجھے مخاطب ہو کر سوال کیا کہ آپ کا کیا مذہب ہے تو میں نے اسے جواب دیا کہ اللہ پاک کی وحدانیت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے اور ان کے علاوہ پیروں فقیروں کو بھی ماننے والا ہوں۔ان کو تو کم مانتے ہیں پیروں فقیروں کو زیادہ مانتے ہیں۔تو دوبارہ اس نے سوال کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں جتلائیں۔تو میں نے اسے کہا کہ تم کسی عالم دین کے پاس چلے جاؤ اگر آپ کو کوئی مسئلہ ہے وہ آپ کو مسئلہ حل کر دیں گے تو اقبال مذکور اس احمدی نے کہا کہ آپ کا نبی جھوٹا ہے اور یہ فلاں فلاں نے بات سنی