خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 858 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 858

$2004 858 خطبات مسرور جائز نہیں۔پھر بعض لوگ جو اللہ کے فضل سے جماعت میں تو نہیں لیکن بعض دفعہ بعض شکایتیں ایسی آتی ہیں کہ بعض عورتیں کمزوریاں دکھا جاتی ہیں۔بالکل ہی بعض دعا کرانے والوں پر اتنا اعتقاد ہوتا ہے کہ مجھتی ہیں کہ بس ان کے واسطے سے ہی اوپر دعا جانی ہے۔اگر دعا کا کوئی واسطہ ہے تو صرف آنحضرت ﷺ کا واسطہ ہے، اس کے علاوہ تو کوئی واسطہ نہیں ہے۔اس لئے درود بھیجنا چاہئے۔فرمایا کہ: ” بے ایمان شریروں نے لوگوں کے اندر شرک کی باتیں گھسادی ہیں۔کہتے ہیں ނ کہ قبروں پر جاؤ اور قبر والے سے کہو کہ تو ہمارے لئے خدا کے آگے عرض کرے۔اللہ تعالیٰ کے فضل۔جماعت میں قبروں والوں کے پاس تو نہیں جاتے لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ بعض زندوں کے پاس جاتے ہیں اور پھر سمجھتے ہیں کہ بس اس کے علاوہ ہمارا کام نہیں ہونا۔میں اس بارے میں پہلے ایک دفعہ کھل کے بتا چکا ہوں۔فرمایا کہ : ” اسلام نے ہم کو اس طرح کی دعا نہیں سکھائی“۔خطبات نور صفحه (506) تو یا درکھیں کہ پہلی بات تو یہ کہ جس سے دعا کرائی جائے ٹھیک ہے اس پر یقین ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا سنتا ہے۔لیکن اس سے پہلے اپنے آپ پر بھی غور کرنا ہوگا ، اپنی حالت بھی بدلنی ہو گی کیونکہ اس طرح دعا کرنے والے کو، جس سے دعا کروائی جا رہی ہے امتحان میں نہ ڈالیں۔خود بھی اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنا ہو گا۔تبھی جب یہ دونوں دعائیں اکٹھی ہو کر، یعنی دعا کروانے والے کی اور دعا کرنے والے کی دعا جب اکٹھی ہو گی تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش میں لائے گی۔اور بعض دفعہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا اللہ تعالیٰ کسی اور رنگ میں دعا قبول کر لیتا ہے۔ضروری نہیں ہے کہ اسی طرح مانے جس طرح بندہ مانگ رہا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” قضاء وقدر کا دعا کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے۔دعا کے ساتھ معلق تقدیرئیل جاتی ہے۔جب مشکلات پیدا ہوتے ہیں تو دعا ضرور اثر کرتی ہے۔جو لوگ دعا سے منکر ہیں ان کو ایک دھو کہ لگا ہوا ہے۔قرآن شریف نے دعا کے دو پہلو