خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 859
$2004 859 خطبات مسرور بیان کئے ہیں۔ایک پہلو میں اللہ تعالیٰ اپنی منوانا چاہتا ہے اور دوسرے پہلو میں بندے کی مان لیتا ہے۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْ مِنَ الحَوْفِ وَالْجُوعِ ﴾ (البقرة:156) “۔میں تو اپنا حق رکھا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں خوف اور بھوک سے آزماؤں گا۔فرمایا کہ اس ” میں تو اپنا حق رکھ کر منوانا چاہتا ہے۔اور نون ثقیلہ کے ذریعے جو اظہار تاکید کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ قضائے مبرم کو ظاہر کریں گے۔تو اس کا علاج ان لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ (البقرة: 157) ہی ہے“۔اور دوسرا وقت جب اللہ تعالیٰ منوانا چاہتا ہے تو پھر یہی اس کا علاج ہے۔پھر اس کی رضا پر راضی ہوں۔اور فرمایا کہ : ” دوسرا وقت خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کی امواج کے جوش کا ہے۔وہ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن (61) میں ظاہر کیا ہے۔کہ مجھے پکارو میں تمہاری پکار کا جواب دوں گا۔تو دو باتیں ہیں۔ایک یہ کہ خود منواتا ہے، خود قرآن شریف نے فرمایا ہے دوسرا یہ کہ کبھی بندے میں جوش پیدا کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم میرے سے دعا مانگو میں ضرور قبول کروں گا۔فرمایا: ” پس مومن کو ان دونوں مقامات کا پورا علم ہونا چاہئے۔صوفی کہتے ہیں کہ فقر کامل نہیں ہوتا جب تک محل اور موقع کی شناخت حاصل نہ ہو بلکہ کہتے ہیں کہ صوفی دعا نہیں کرتا جب تک کہ وقت کو شناخت نہ کرے“۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” الغرض دعا کی اس تقسیم کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ کبھی اللہ تعالیٰ اپنی منوانا چاہتا ہے اور کبھی وہ مان لیتا ہے۔یہ معاملہ گویا دوستانہ معاملہ ہے۔ہمارے نبی کریم ﷺ کی جیسی عظیم الشان قبولیت دعاؤں کی ہے اس کے مقابل رضا اور تسلیم کے بھی آپ اعلیٰ درجہ کے مقام پر ہیں۔کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعائیں قبول فرمائی ہیں۔اور بڑے عظیم الشان قبولیت دعا کے نظارے ہیں۔بعض ایسے بھی ہیں جہاں تکالیف پہنچیں لیکن آپ نے بڑے صبر سے اس کو برداشت کیا اور خوشی سے ان کو تسلیم کیا۔پھر فرماتے ہیں کہ : ”جو لوگ فقراء اور اہل اللہ کے پاس آتے ہیں۔اکثر ان میں سے محض آزمائش اور امتحان کے لئے آتے ہیں۔وہ دعا کی حقیقت سے نا آشنا ہوتے ہیں۔ان کو اصل میں