خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 809
$2004 809 خطبات مسرور ہوں گے۔تو بہر حال افریقہ میں جہاں بہت بڑی تعداد احمدیت میں شامل ہوئی ہے یہ ہماری سستی ہے کہ ان کو ہم مالی نظام میں شامل نہیں کر سکے۔ایک تو اس کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ بیعتیں کروانے کے بعد رابطہ صحیح نہیں رکھا پھر ان لوگوں کو مالی قربانی کی اہمیت سے صحیح طرح آگاہ نہیں کیا گیا، واقفیت نہیں کروائی گئی۔اور اب جب میں نے جماعتوں کو توجہ دلائی کہ افریقہ میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جن کے ساتھ رابطے نہیں ان سے رابطے پیدا کریں اسی طرح ہندوستان میں بھی۔جب ان لوگوں سے رابطے کئے گئے تو انہوں نے شکوہ کیا کہ تم ہماری بیعت کروا کے ہمیں چھوڑ کر چلے گئے اور بعض لوگوں نے بڑی ناراضگی کا اظہار کیا۔بعض ملکوں کے جب میں دورے پر گیا ہوں ، بعضوں نے یہ بھی اظہار کیا کہ ہمیں اطلاع کیوں نہیں دی گئی ہم ملنے کے لئے آجاتے ، وہ نہیں آسکے۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے ہم احمدیت پر قائم ہیں لیکن جو تم لوگوں نے رویہ رکھا ہے اگر کچھ عرصہ اور تم نہ آتے اور ہم سے رابطے نہ کرتے تو پھر ہم انہیں اندھیروں میں چلے جاتے جن میں پہلے پڑے ہوئے تھے۔تو جماعتوں کو میں دوبارہ آج پھر توجہ دلاتا ہوں کہ ان رابطوں کو قائم کریں اور وسیع کریں اور تربیت کی طرف توجہ دیں۔اپنی سستیاں دور کریں اور ان نئے لوگوں کو بھی مالی قربانیوں میں شامل کریں چاہے وہ ٹوکن کے طور پر ہی تھوڑا بہت دے رہے ہوں۔اس طرح جیسا کہ میں نے کہا جو نئے بچے ہیں ان کو بھی ماں باپ شامل کرنے کی کوشش کریں۔اس مالی قربانی میں شامل کریں۔اور خاص طور پر واقفین نو بچے تو ضرور، بلکہ ہر پیدا ہونے والا بچہ اس میں شامل ہونا چاہئے۔بلکہ بعض احمد یوں کا ایمان تو اس سے بھی تازہ ہوتا ہے کہ کسی کے اولاد نہیں ہوتی تھی تو انہوں نے تحریک جدید میں اپنے بچوں کے نام پر بھی چندہ دینا شروع کر دیا۔100 روپے بچے کے حساب سے 400 روپے دینے شروع کر دیئے (پاکستان کی بات ہے ) اور اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ کچھ عرصے بعد ان کے ہاں اولاد کی امید پیدا ہوئی اور اب چار بچے ہو گئے۔جتنے بچوں کا چندہ دیتے تھے اتنے بچے اللہ تعالیٰ