خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 765 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 765

$2004 765 خطبات مسرور ہیں۔یہ سب شیطانی خیالات ہیں ان سے بچیں۔عورتوں میں خاص طور پر یہ بیماری زیادہ ہوتی ہے، جہاں جہاں بھی ہیں ہمارے ایشین (Asian) ملکوں میں اس طرح کا زیادہ ہوتا ہے یا جہاں جہاں بھی Asians اکٹھے ہوئے ہوتے ہیں وہاں بھی بعض دفعہ ہو جاتا ہے۔اس لئے ذیلی تنظیمیں اس بات کا جائزہ لیں اور ایسے جو بدعات پھیلانے والے ہیں اس کا سد باب کرنے کی کوشش کریں۔اگر چند ایک بھی ایسی سوچ والے لوگ ہیں تو پھر اپنے ماحول پر اثر ڈالتے رہیں گے۔نہ صرف ذیلی تنظیمیں بلکہ جماعتی نظام بھی جائزہ لے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ چند ایک بھی اگر لوگ ہوں گے تو اپنا اثر ڈالتے رہیں گے۔اور شیطان تو حملے کی تاک میں رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی بات ماننے والے بننے کی بجائے اس طرح بعض شرک میں پڑنے والے ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ سب کو اس سے محفوظ رکھے۔لیکن میں پھر کہتا ہوں کہ یہ بیماری چاہے چند ایک میں ہی ہو، جماعت کے اندر برداشت نہیں کی جاسکتی۔اللہ تعالیٰ تو یہ دعا سکھاتا ہے کہ اپنے اپنے دائرے میں ہر ایک یہ دعا کرے کہ مجھے متقیوں کا امام بنا۔خلیفہ وقت بھی یہ دعا کرتا ہے کہ مجھے متقیوں کا امام بنا۔اور یہ پیر پرست طبقہ کہتا ہے کہ ہم جو مرضی عمل کریں ہمارے پیر صاحب کی دعاؤں سے ہم بخشے جائیں گے۔انا للہ۔یہ تو نعوذ باللہ عیسائیوں کے کفارہ والا معاملہ ہی آہستہ آہستہ بن جائے گا۔وہی نظریہ پیدا ہوتا جائے گا۔پس اس طرف چاہے یہ چھوٹے ماحول میں ہی ہو، بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ابھی سے اس کو دبانا ہوگا۔اور ہر احمدی یہ عہد کرے کہ اس رمضان میں اپنے اندر انشاء اللہ تعالی انقلابی تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں۔ہر احمدی یہ کوشش کرے اور ہر احمدی خودان دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے مزے چکھے بجائے اس کے کہ دوسروں کے پیچھے جائے۔ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جس کے لئے باب الدعا کھولا گیا تو گویا اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے۔اور اللہ تعالیٰ سے جو چیزیں مانگی جاتی ہیں ان میں سے سب سے