خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 741 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 741

741 $2004 خطبات مسرور کی وجہ سے تقویٰ کے اور بھی اعلیٰ معیار حاصل کرتے چلے جاتے ہیں اور ترقی کرتے کرتے اللہ تعالیٰ کے انتہائی قرب پانے والے بنتے چلے جاتے ہیں۔یہ یا درکھنا چاہئے کہ روزہ صرف اتنا نہیں ہے کہ کچھ عرصہ کے لئے کھانا پینا چھوڑ دیا تو تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم ہو جائیں گے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ روزے کے ساتھ بہت ساری برائیوں کو بھی چھوڑ نا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی پہلے سے بڑھ کر کرنی ہو گی تبھی تقویٰ بھی حاصل ہوگا اور اس میں ترقی بھی ہوگی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ” روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں۔اصل یہ ہے کہ جس ملک میں انسان جاتا نہیں اور جس عالم سے واقف نہیں اس کے حالات کیا بیان کرے۔روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربے سے معلوم ہوتا ہے۔انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اس قدر تزکیہ نفس ہوتا ہے اور کشفی قو تیں بڑھتی ہیں۔خدا تعالیٰ کا منشاء اس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ۔ہمیشہ روزہ دار کو یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا ر ہے بلکہ اسے چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تاکہ تبتل اور انقطاع حاصل ہو۔یعنی خدا تعالیٰ سے لو لگانے کی طرف توجہ پیدا ہو اور دنیا سے بے رغبتی پیدا ہو، دنیا کو چھوڑنے کی طرف توجہ ہو۔پس روزہ سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو جسم کی پرورش کرتی ہے، دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کی تسلی اور سیری کا باعث ہے۔اور جولوگ محض خدا کے لئے روزے رکھتے ہیں اور نرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے انہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں، یعنی حد بھی کریں اور تسبیح بھی کریں اور اللہ تعالیٰ کی بڑائی بھی بیان کریں اور اسی کو سب کچھ سمجھنے والے ہوں ”جس سے دوسری غذا انہیں مل جاوے“۔(ملفوظات جلد پنجم صفحه ۱۷،۱۰۲ جنوری ۱۹۰۷)