خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 740
740 $2004 خطبات مسرور جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اور ہر اس برائی کو چھوڑ رہے ہوتے ہیں جس کو چھوڑنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔بلکہ بعض جائز چیزوں کو بھی ایک خاص وقت کے لئے اس لئے چھوڑ رہے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ روزوں کی فرضیت اور بعض چیزوں سے بھی پر ہیز اس لئے ہے تا کہ تم تقویٰ میں ترقی کرو۔اور تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ یہ ہے کہ گناہوں سے بچو، گناہوں سے بچنے کی کوشش کرو اور اس طرح بچو جس طرح کسی ڈھال کے پیچھے چھپ کے بچا جاتا ہے۔اور انسان جب کسی چیز کے پیچھے چھپ کر بچنے کی کوشش کرتا ہے تو اس میں ایک خوف بھی ہوتا ہے۔جس حملے سے بیچ رہا ہوتا ہے اس کے خوف کی وجہ سے وہ پیچھے چھپتا ہے۔تو فرمایا کہ روزے رکھو اور روزے رکھنے کا جو حق ہے اس کو ادا کرتے ہوئے رکھو تو تقویٰ میں ترقی کرو گے۔ورنہ ایک روایت میں آیا ہے کہ خدا تعالیٰ کو تمہیں بھوکا رکھنے کا کوئی شوق نہیں ہے، کوئی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ تم نے جو غلطیاں اور گناہ کئے ہیں ان کے بدنتائج سے بچنے کے لئے میں نے ایک راستہ تمہارے لئے بنایا ہے تاکہ تم خالص ہو کر دوبارہ میری طرف آؤ۔اور ان روزوں میں ، رمضان میں روزہ رکھنے کا حق ادا کرتے ہوئے میری خاطر تم جائز باتوں سے بھی پر ہیز کر رہے ہوتے ہو اور تمہاری اس کوشش کی وجہ سے میں بھی تم پر رحمت کی نظر ڈالتا ہوں اور شیطان کو جکڑ دیتا ہوں۔تا کہ تم جس خوف کی وجہ سے روزہ رکھتے ہو اور روزہ رکھتے ہوئے اس ڈھال کے پیچھے آتے ہو، تقویٰ اختیار کرتے ہوتا کہ اس میں تم محفوظ رہو، اور تمہیں شیطان کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔تو فرمایا کہ یہ تقوی جو ہے، یہ ڈھال جو ہے، یہ شیطان کے حملوں سے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش جو ہے، یہ تمہارے روزے رکھنے کی وجہ سے تمہاری حفاظت کر رہی ہے۔اس لئے ایک مجاہدہ کر کے جب تم اس حفاظت کے حصار میں آگئے ہو تو اب اس میں رہنے کی کوشش بھی کرنی ہے۔اب اس حصار کو، اس تقویٰ کو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے مضبوط سے مضبوط تر کرنا ہے۔اور جو پہلے ہی نیکیوں پر قائم ہوتے ہیں وہ روزوں