خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 723 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 723

$2004 723 خطبات مسرور اور اس کی تعلیم سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔تو جب آپ ذاتی رابطوں سے آہستہ آہستہ اس بھیانک تصویر کو ان لوگوں کے ذہنوں سے زائل کریں گے تو یہ آپ کے قریب ہوتے چلے جائیں گے۔آپ کو دوسروں سے مختلف سمجھیں گے۔اور یہ رابطے کرنے کے لئے جو بہت سے اسائکم لینے والے یہاں آئے ہوئے ہیں انہیں کام وغیرہ کرنے کی بجائے ، خاص وقت سے زیادہ تو کام کرنے کی اجازت نہیں۔اگر یہاں بھی وہی قانون ہے تو ، وہ یہاں بوڑھوں سے بھی رابطے کریں، ان کے لئے تھے لے کر جائیں، ان کے پاس بیٹھیں، ان سے ہمدردی کریں۔یہ بھی مغرب کا بڑا محروم طبقہ ہے۔ان کے اپنے عزیز رشتے دار، بچے ان کو بوڑھوں کے گھروں میں چھوڑ جاتے ہیں Old people House جسے یہ کہتے ہیں۔بعضوں کو تو سنا ہے بعض ملکوں میں کئی کئی ہفتے کوئی عزیز رشتے دار نہیں پوچھتا۔ان بوڑھوں سے جب آپ تعلقات پیدا کریں گے تو ان کی ہمدردی کے ساتھ ساتھ بہت سارے لوگ ہیں جن کو زبان بھی صحیح طریق سے نہیں آتی ، آپ اپنی زبان بھی بہتر کر رہے ہوں گے۔غیر محسوس طریقے پر آپ ان کے پاس بیٹھ کے زبان بھی سیکھ جائیں گے۔ہوسکتا ہے کہ آپ کے اس جذ بہ ہمدردی اور خدمت خلق سے ان کے بعض عزیز بھی آپ کے قریب آجائیں۔تو یہ رابطے بڑھانے کا ایک ذریعہ ہے۔اس طرح اور بھی بہت سارے مختلف راستے ہیں۔کوشش ہو تو آدمی تلاش کر سکتا ہے جو آپ کو حالات کے مطابق نکالنے ہوں گے۔ہمسایوں سے حسن سلوک ہے، ان کی مدد ہے، ان کے تہواروں پر عیدوں وغیرہ پر ( کچھ لوگ تو یہ کرتے بھی ہیں لیکن سارے نہیں کرتے ) ان کے لئے تحفے وغیرہ لے کر جائیں ان کو بلائیں ، دعوت دیں۔ہماری عموماً یہ عادت ہے کہ ایک مہم کی صورت میں، مہینے میں ایک دفعہ یا دو مہینے میں ایک دفعہ ایک تبلیغ ڈے منا لیتے ہیں۔یا سال میں ایک دو دفعہ ہفتہ منا کر اس میں کچھ حد تک لٹریچر تقسیم کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے حق ادا کر دیا۔یہ طریق میرے نزدیک ایک حد تک تو ٹھیک ہے لیکن صرف اس پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ان کو جب بھی کوئی معلومات یا تعارف آپ پمفلٹ کی صورت میں دیتے ہیں تو پھر اس کی مدد سے آگے رابطے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ورنہ تو پیسہ خرچ کرنے والی بات