خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 724
724 $2004 خطبات مسرور ہے۔پھر ایک تسلسل سے یہ چھوٹے پمفلٹ ، ان لوگوں تک جن کو دلچسپی ہے ان تک پہنچنے چاہئیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ آجکل ملاں نے اسلام کا جو تصور قائم کیا ہوا ہے، اس کے رد کے لئے صحیح تعلیم کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان میں یہ پمفلٹ پہنچنے چاہئیں، یہ پیغام پہنچنا چاہئے۔ایک ورقہ یا دو ورقہ ان لوگوں تک پہنچے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ وغیرہ ہو۔اور جیسا کہ میں نے کہا بتسلسل سے یہ پیغام پہنچتے رہنا چاہئے۔حالات کے مطابق ، حکمت سے، پمفلٹ تقسیم کئے جائیں جو عموماً دیئے بھی جاتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا بعض جگہوں پر کوشش ہوتی ہے لیکن وہی بات ہے کہ تسلسل قائم نہیں رہتا، رابطے قائم نہیں رہتے اور آپ کی اچھی نصیحت کا حکمت کے ساتھ پھینکا ہوا ایک قطرہ لوگوں پر گرتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے وہیں وہ قطرہ خشک بھی ہو جاتا ہے۔اور تسلسل سے گرتے رہنے کی وجہ سے پانی کا جو بہاؤ ہوتا ہے وہ بہاؤ نہیں رہتا۔اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرنے کی شاذ ہی نوبت آتی ہے کہ ایسی دلیل کے ساتھ بحث کرو جو بہترین ہو۔اس لئے قرآن کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کریں۔حکمت سے کریں، ایک تسلسل سے کریں، مستقل مزاجی سے کریں، اور ٹھنڈے مزاج کے ساتھ ،مستقل مزاجی کے ساتھ کرتے چلے جائیں۔دوسرے کے جذبات کا بھی خیال رکھیں اور دلیل کے لئے ہمیشہ قرآن کریم اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں سے حوالے نکالیں۔پھر ہر علم عقل اور طبقے کے آدمی کے لئے اس کے مطابق بات کریں۔خدا کے نام پر جب آپ نیک نیتی سے بات کر رہے ہوں گے تو اگلے کے بھی جذبات اور ہوتے ہیں۔نیک نیتی سے اللہ تعالیٰ کے نام پر کی گئی بات اثر کرتی ہے۔ایک تکلیف سے ایک درد سے جب بات کی جاتی ہے تو وہ اثر کرتی ہے۔تمام انبیاء بھی اسی اصول کے تحت اپنے پیغام پہنچاتے رہے۔اور ہر ایک نے اپنی قوم کو یہی کہا ہے کہ میں تمہیں اللہ