خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 610 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 610

$2004 610 مسرور تو پہلی بات تو یہی کہ جب بیعت کر لی تو پھر جو کچھ بھی احکام ہوں گے تو ہم کامل اطاعت کریں گے۔یہ نہیں کہ جب ہماری مرضی کے فیصلے ہو رہے ہوں تو ہم مانیں گے، ہمارے جیسا اطاعت گزار کوئی نہیں ہوگا۔اور اگر کوئی فیصلہ ہماری مرضی کے خلاف ہو گیا ہے جس سے ہم پر تنگی وارد ہوئی تو اطاعت سے باہر نکل جائیں ، نظام جماعت کے خلاف بولنا شروع کر دیں۔نہیں، بلکہ جو بھی صورت ہوفر مایا کہ تنگی ہو یا آسانی ہو ہم نظام جماعت کے فیصلوں کی مکمل اطاعت کریں گے اور نظام سے ہی چھٹے رہیں گے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی طاعت در معروف پر ہی بیعت لی ہے اور اب تک یہ سلسلہ شرائط میں بیعت کے ساتھ چل رہا ہے۔اس لئے یہ خیال کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ عہد بیعت تھا اب نہیں، یا اب اگر اس کو توڑیں گے تو گناہ کوئی نہیں ہوگا یہ خیال ذہن سے نکال دیں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی یہ سلسلہ قائم ہوا ہے اور اس لئے یہ اسی کا تسلسل ہے۔اور پھر ویسے بھی ایک حدیث میں آتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی۔اور جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا تعالیٰ کی نافرمانی کی۔(صحیح مسلم، کتاب الامارة، باب وجوب طاعة الامراء فى غير معصية وتحريمها في المعصية) تو یہ وہی سلسلہ چل رہا ہے۔اس لئے فرمایا کہ چاہے خوشی پہنچے یا غم پہنچے جو بھی امیر ہے اس سے جھگڑنا نہیں۔اس کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہے اور اگلی بات یہ کہ حق پر قائم رہیں گے۔اس کا کوئی یہ مطلب نہ لے لے کہ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں ہم حق پر ہیں اس لئے ہم یہ فیصلہ نہیں مانتے۔بلکہ فرمایا تمہیں ہمیشہ اس بات کا خیال رہے کہ تم نے سچی بات کہنی ہے۔دنیا کی کوئی سختی کوئی دباؤ کوئی لالچ تمہیں حق اور سچ کہنے سے نہ روکے۔اور پھر یہ بھی کہ جب تمہارا کوئی معاملہ آئے تم نے سچی بات کہنی ہے، بچی