خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 602
$2004 602 خطبات مسرور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اس کو کوئی دنیاوی جلسہ نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ یہ ایک دینی اور روحانی جلسہ ہے۔ایک دینی اور روحانی اجتماع ہے یہاں کسی خرید و فروخت یا صرف میل ملاقات کے لئے اکٹھے نہیں ہوتے۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا۔ہمیں ان مجلسوں کو ان قواعد کے تحت لانا چاہئے جو حج کے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ مثلاً رفٹ کی تشریح میں آپ نے فرمایا کہ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ بد کلامی کرنا، گالیاں دینا، گندی باتیں کرنا ، گندے قصے سنانا ، لغو اور بیہودہ باتیں کرنا جسے پنجابی میں گئیں مارنا کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کوئی حج کو جائے تو اسے کسی بھی قسم کی یہ باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔نہ بد کلامی کرنی چاہئے ، نہ گندے قصے کرنے چاہئیں وغیرہ۔پھر فرمایا کہ دوسری چیز جو حج کے لئے ہے وہ فسوق ہے۔اس کے معنے ہیں اطاعت اور فرمانبرداری سے باہر نکل جانا۔تو یہاں بھی یادرکھیں کہ نظام کی اطاعت اور اس کے ساتھ پورا تعاون آپ کا فرض ہے۔پھر آپس میں بعض باتوں پر رنجشیں اور پھر بعض دفعہ تلخ کلامیاں بھی ہو جاتی ہیں جب اکٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔تو یہ سب لغو چیزیں ہیں۔نظام جماعت کی یا یہاں جو جلسے کا نظام ہے اس کی ہدایات سے انحراف یہ بھی لغویات میں شمار ہوتا ہے۔پھر جدال آتا ہے۔فرمایا کہ یہاں بھی احتیاط کی ضرورت ہے ان تلخ کلامیوں کی وجہ سے ان رنجشوں کی وجہ سے بعض لڑائیاں بھی ہو جاتی ہیں ایک دوسرے پر ہاتھ بھی اٹھا لیتے ہیں۔پھر بعض دفعہ کسی ڈیوٹی والے سے یا کسی ڈیوٹی والی سے، کارکنوں سے کوئی ایسی بات ہو جائے مثلاً کسی بچے کو کچھ کہہ دیا تو اس پر اس کے ماں یا باپ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو ان باتوں سے بچنا چاہئے۔پس کوشش کریں کہ ان دنوں میں ان تمام برائیوں اور لغویات سے اپنے آپ کو بچائیں اور اپنی زبانوں کو ذکر الہی سے تر رکھیں۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور سب شامل ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کا وارث بنائے۔آمین