خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 557 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 557

$2004 557 خطبات مسرور جنہوں نے خاموشی سے اس جلسے کو سنا اور اس کی برکات سے فیض پایا اور اب اس کوشش میں ہیں کہ اس کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنی نیک خواہشات کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائے۔اسی طرح میں میزبانوں اور ان لوگوں کا جنہوں نے اپنے گھروں میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کو ٹھہرایا ، ان کا رکنوں اور ان کا رکنات کا جنہوں نے بے نفس ہو کر رات دن ایک کر کے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کی ان سب کا شکر یہ ادا کرتا ہوں۔ہر کارکن چاہے وہ ہنگر خانے میں کام کرنے والا کا رکن تھایا صفائی کے شعبے کا تھایا آب رسانی کے شعبے کا تھا ان دنوں میں تو گرمی بھی کافی رہی ہے اور پانی کی ضرورت بھی محسوس ہوتی رہی تو پانی پلانے کے لئے چھوٹے بچوں نے ڈیوٹی دی اور اس ڈیوٹی کو خوب نبھایا اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو اور بڑھا تا چلا جائے۔جب ربوہ میں جلسے ہوتے تھے تو یہی نظارے دیکھنے میں آیا کرتے تھے اس طرح اور مختلف شعبہ جات ہیں۔ایم ٹی اے کے کارکن ہیں، تمام شعبوں کا تو نام لیناممکن نہیں بہر حال سب کا شکریہ اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بہتر الفاظ جن سے شکریہ بھی ادا ہو جائے اور دعا بھی مل جائے وہ یہ ہیں کہ جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا اللہ تعالیٰ سب کو بہترین جزا دے۔اس شکرانے کے ضمن میں ایک اور بات بھی کہنی چاہتا ہوں کہ جلسے کی آخری تقریر میں میں نے احباب جماعت کو وصیت کرنے اور اس بابرکت نظام میں شامل ہونے کی طرف بھی توجہ دلائی تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتوں اور احباب جماعت نے ذاتی طور پر بھی اس سلسلہ میں وعدے کئے ہیں اور وعدے آ بھی رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے اور انہیں توفیق دے کہ وہ اس عہد کو جلد از جلد نبھا سکیں اور جتنی تعداد میں میں نے خواہش کی تھی اس سے بڑھ کر اس بابرکت نظام میں وہ شامل ہوں۔بعض دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں جو دوسری جماعتی خدمات میں بعض دفعہ جب ان کو کوئی تحریک کی جائے تو پیش پیش ہوتے ہیں یا کم از