خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 558 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 558

$2004 558 خطبات مسرور کم اتنا ضرور ہوتا ہے کہ جتنا زیادہ سے زیادہ حصہ لے سکتے ہیں اس میں حصہ لیں لیکن وہ نظام وصیت میں شامل ہونے سے محروم ہیں۔ان میں سے بھی کئی لوگوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اب اس نظام میں شامل ہوں گے۔ایسے صاحب حیثیت لوگوں کو ایسے احمدیوں کو تو سب سے پہلے چھلانگ مار کر آگے آنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل فرمائے ہیں۔ان کے شکرانے کے طور پر ہم اس نظام میں شامل ہوں تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے مزید کھلیں۔اللہ تعالیٰ نے جو ان پر نعمتیں نازل فرمائی ہیں ان کا اظہار ہونا چاہئے اور وہ اپنے ذاتی اظہار کے۔قربانیوں کی طرف توجہ دینے کا بھی اظہار ہونا چاہئے۔ایک روایت میں آتا ہے۔" حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ وہ اپنے فضل اور اپنی نعمت کا اثر اپنے بندے پر دیکھے۔(ترمذب كتاب الادب باب ان الله يحب ان يرى اثر نعمته على عبده) پس جہاں اپنی ذات پر اپنے خاندان پر یہ اثر دکھا رہے ہوں وہاں قربانیوں میں بھی ایسے ظاہر ہونا چاہئے اور یہ جو تسلسل قربانی کا ہے کبھی کبھا کی قربانی نہیں بلکہ تسلسل کی قربانی کا اظہار ہونا چاہئے تا کہ اور زیادہ شکران نعمت ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کمال فضل ہے کہ اس نے کامل اور مکمل عقائد صحیحہ کی راہ ہم کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بدوں مشقت و محنت کے دکھائی ہے وہ راہ جو آپ لوگوں کو اس زمانے میں دکھائی گئی ہے۔بہت سے عالم ابھی تک اس سے محروم ہیں۔پس خدا تعالیٰ کے اس فضل اور نعمت کا شکر کرو اور وہ شکر یہی ہے کہ بچے دل سے ان اعمال صالحہ کو بجالا ؤ جو عقائد صحیحہ کے بعد دوسرے حصے میں آتے ہیں اور اپنی عملی حالت سے مدد لے کر دعا مانگو وہ ان عقائد صحیحہ پر ثابت قدم رکھے اور اعمال صالحہ کی توفیق بخشے۔حصہ عبادات میں صوم صلوۃ وزکوۃ وغیرہ امور شامل ہیں“۔(ملفوظات جلد اول صفحه 94-95 رپورٹ جلسه سالانه ۱۸۹۷ء)