خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 553 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 553

$2004 553 خطبات مسرور لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کی بہترین جزا دے اور پھر ان پر ہمیشہ اپنی پیار کی نظر ڈالتا رہے۔پھر مہمانوں کو ان عزیزوں، رشتہ داروں اور دوستوں کا بھی شکر گزار ہونا چاہئے جنہوں نے ان کو اپنے گھروں میں اس جذبے کے تحت مہمان ٹھہرایا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ہیں۔ان کے لئے خاص دعائیں کرتے رہنا چاہئے اللہ تعالیٰ ان سب دوستوں کو جنہوں نے اپنے اپنے گھروں میں مہمان ٹھہرایا جزا دے اور ان کے اموال ونفوس میں بے انتہا برکت دے۔یہ شکر گزاری کی فضا جب پیدا ہوگی اور ایک دوسرے کے لئے دعائیں ہو رہی ہوں گی تو یہی اس دنیا کی جنت ہے۔جس میں ایک دوسرے کے لئے سوائے نیک اور پاک جذبات کے اور شکر کے جذبات کے اور کچھ ہے ہی نہیں۔اور جب یہ شکرانے کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے قائم ہو جائے گا تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا سلسلہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ چلتا رہے گا۔ایک روایت میں آتا ہے ” حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ نعمت شکر کے ساتھ وابستہ ہے اور شکر کے نتیجہ میں مزید عطا ہوتا ہے اور یہ دونوں ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔اور خدا کی طرف سے مزید عطا کرنے کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ بندہ شکر کرنا نہ چھوڑ دے۔(کنز العمال جلد نمبر 2 صفحه (151 تو دیکھیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت کسی نہ کسی طرح دینے کے لئے تیار بیٹھا ہے تم شکر کرو تو پھر اللہ دیتا چلا جائے گا۔اپنے بھائیوں کے بھی شکر گزار بنواور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بھی شکر گزار بندے بنوتو میری نعمتوں سے حصہ پاتے چلے جاؤ گے، ان میں اضافہ دیکھتے چلے جاؤ گے۔یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی نعمتیں ایک لڑی میں ہیں۔ہر نعمت کے بعد شکر ہو تو پھر یہ نعمتوں کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ہر نعمت کے بعد شکر اور ہر شکر کے بعد نعمت۔بندہ ناشکرا ہو جائے تو ہو جائے،اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور نعمتوں کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے اور صرف یہ خیال نہ رہے کہ یہ تو چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں ان کا کیا شکر ادا کرنا۔بعض دفعہ بعض خیال آ جاتے ہیں، نہیں بلکہ ہر چھوٹی سے چھوٹی