خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 554 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 554

554 $2004 خطبات مسرور چیز بھی اگر میسر آتی ہے تو اس کا شکر ادا کرنا چاہئے۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی مانگنی ہو تو مجھ سے مانگو۔اگر جوتی کے تسمے کی ضرورت بھی ہے تو مجھ سے مانگو۔تو جب یہ حالت ہو گی کہ تم جوتی کا تسمہ بھی خدا سے مانگ رہے ہو اور پھر اس کے بعد اس کا شکر بھی ادا کر رہے ہو تو اللہ تعالیٰ پھر نعمتوں کو اور بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے ” حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ حضور نے منبر پر کھڑے ہو کے فرمایا کہ جو تھوڑے پر ( چھوٹی بات پر ) شکر نہیں کرتا وہ بڑی ( نعمت ) پر بھی شکر ادا نہیں کرتا۔اور جو بندوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کیا کرتا۔نعمائے الہی کا ذکر کرتے رہنا شکر گزاری ہے اور اس کا عدم ذکر کفر ( یعنی ناشکری) ہے۔جماعت ایک رحمت ہے اور تفرقہ بازی ( پراگندگی ) عذاب ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحه 278 یعنی تفرقہ بازی جو ہے آپس میں پڑے رہنا یہ عذاب ہے اس سے ہلاکت ہوگی۔تو اس میں ایک یہ بھی نصیحت فرما دی کہ ایک جماعت رہتے ہوئے ایک دوسرے کے شکر گزار بنو اور اس طرح سے شکر گزاری کے ساتھ ایک جماعت بن کر رہنے سے تم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو بھی جذب کرنے والے ہو گے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”یہ بخوبی یاد رکھو کہ جو شخص اپنے محسن انسان کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ خدا تعالیٰ کا بھی شکر نہیں کر سکتا۔جس قدر آسائش اور آرام اس زمانے میں حاصل ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ریل، تار، ڈاک، ڈاک خانہ، پولیس وغیرہ انتظام کو دیکھو کس قدر فوائد پہنچتے ہیں۔آج سے 60-70 برس پہلے بتاؤ کیا ایسا آرام و آسانی تھی ؟ پھر خود ہی انصاف کرو جب ہم پر ہزاروں احسان ہیں تو ہم کیوں کر شکر نہ کریں“۔(ملفوظات جلد 4 صفحه 547 الحكم ٣٠۔ستمبر ١٩٠٦ء) حکومت نے جو چیزیں مہیا کی ہوتی ہیں ان کا بھی ہمیں ہمیشہ شکر گزار ہوتے رہنا چاہئے۔انہوں نے یہ سہولتیں میسر کی ہیں اور مہیا کی ہیں۔