خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 537 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 537

$2004 537 خطبات مسرور تعالیٰ نے یہ ان لوگوں کی نشانی بتائی ہے جو انبیاء کا انکار کرنے والے ہیں۔جب اس طرح کے رویے اختیار کرنے ہیں تو پھر جب نظام جماعت ایکشن لیتا ہے پھر یہ شکایت ہوتی ہے کہ کارکنان نے ہمارے ساتھ بدتمیزی کی ہے اور ہمیں یہ کہا اور وہ کہا۔یہ ٹھیک ہے میں نے کارکنان کو بھی بڑی دفعہ یہ سمجھایا ہے کہ براہ راست ان کو کچھ نہیں کہنا، ایسے لوگوں کو جوا اپنے عمل سے خود کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم نظام کو کچھ نہیں سمجھتے، جلسے کے تقدس کو کچھ نہیں سمجھتے تو پھر ان کا ایک ہی علاج ہے کہ اس تکبر کی وجہ سے ان کو پولیس میں دے دیا جائے۔گزشتہ سال بھی ایسے ایک دو واقعات ہوئے تھے۔تو اگر اس سال بھی کوئی اس نیت سے آیا ہے کہ بجائے اس کے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت واخوت پیدا کرے، یہ نیت ہے کہ فساد پیدا کرے تو پھر جلسے پر نہ آنا ہی بہتر ہے اور اگر آئے ہوئے ہیں تو بہتر ہے کہ چلے جائیں تا کہ نظام جماعت کے ایکشن پر پھر شکوہ نہ ہو۔گزشتہ جمعہ میں میں نے کارکنان کو اور یہاں کے رہنے والوں کو جو لندن یا اسلام آباد کے ماحول میں رہ رہے ہیں، یہ کہا تھا کہ مہمان نوازی کے بھی حق ادا کریں۔لیکن آنے والے مہمانوں کو بھی خیال رکھنا چاہئے کہ وہ ڈیوٹی پر مامور کارکنوں کو ابتلاء میں نہ ڈالیں اور جو نظام ہے اس سے پورا پورا تعاون کریں۔اس لئے جہاں خدمت کرنے والے کارکنان مہمانوں کی خدمت کے لئے پوری محنت سے خدمت انجام دے رہے ہیں وہاں مہمانوں کا بھی فرض ہے کہ مہمان ہونے کا حق بھی ادا کریں اور جس مقصد کے لئے آئے ہیں اس کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو پاک تبدیلیاں ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کو اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش کریں۔آپ فرماتے ہیں کہ نیکی کو محض اس لئے کرنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ خوش ہو اور اس کی رضا حاصل ہو اور اس کے حکم کی تعمیل ہو۔قطع نظر اس کے کہ اس پر ثواب ہو یا نہ ہو۔ایمان تب ہی کامل ہوتا ہے جب کہ یہ وسوسہ اور وہم درمیان سے اٹھ جاوے اگر چہ یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔اِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِين۔مگر نیکی کرنے والے کو اجر مدنظر نہیں رکھنا