خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 536
$2004 536 خطبات مسرور آرام رسانی کی تدبیر نہ کروں۔اور اگر کوئی میرا دینی بھائی اپنی نفسانیت سے مجھ سے کچھ سخت گوئی کرے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں بھی دیدہ و دانستہ اس سے سختی سے پیش آؤں۔بلکہ مجھے چاہئے کہ میں اس کی باتوں پر صبر کروں اور اپنی نمازوں میں اس کے لئے رو رو کر دعا کروں کیونکہ وہ میرا بھائی ہے اور روحانی طور پر بیمار ہے۔اگر میرا بھائی سادہ ہو یا کم علم یا سادگی سے کوئی خطا اس سے سرزد ہو تو مجھے نہیں چاہئے کہ میں اس سے کوئی ٹھٹھا کروں یا چیں بر جبیں ہو کر تیزی دکھاؤں یا بد نیتی سے اس کی عیب گیری کروں کہ یہ سب ہلاکت کی راہیں ہیں۔کوئی سچا مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل نرم نہ ہو، جب تک وہ اپنے تئیں ہریک سے ذلیل تر نہ سمجھے جب تک وہ اپنے آپ کو ہر ایک سے ذلیل نہ سمجھے اور ساری مشیخیں دور نہ ہو جائیں۔خادم القوم ہونا مخدوم بنے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہو کر اور جھک کر بات کرنا مقبول الہی ہونے کی علامت ہے۔اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے۔(شهادت القرآن روحانی خزائن جلد نمبر 6 صفحه 394-396) | یہاں پر آپ نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جلسہ پر شامل ہو کر جلسہ کی تقریروں کو سن کر پھر بھی اگر اس طرف توجہ نہیں ہوتی تو جلسوں پر آنا بے فائدہ ہے۔جیسا کہ پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں کہ اس بات کا کوئی فائدہ نہیں کہ جلسہ پرآئیں وقتی جوش پیدا ہوجیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اور جلسہ ختم ہوتے ہی باہر جا ئیں تو جذبات پر اتنا سا بھی کنٹرول نہ رہے کہ دوسرے کی کوئی بات ہی برداشت کر سکیں۔اگر یہ حالت ہی رکھنی ہے تو بہتر ہے کہ پھر جلسے پر نہ آئیں۔یہاں کئی واقعات ایسے ہو جاتے ہیں جن کو اپنے آپ پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا۔صحیح طور پر نہ خود جلسہ سنتے ہیں اور نہ ہی دوسرے کو سننے دیتے ہیں اور ذرا ذرا سی بات پر پھر سر پٹول بھی ہو رہی ہوتی ہے۔تو ایسے لوگ پھر وہی لوگ ہیں جیسے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ کان رکھتے ہیں اور سنتے نہیں اور دل رکھتے ہیں اور سمجھتے نہیں۔ذرا غور کریں یہ کون لوگ ہیں؟ اللہ