خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 519 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 519

$2004 519 خطبات مسرور اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہئے۔(سیرت حضرت مسیح موعود مرتبه یعقوب علی عرفانی صاحب جلد اول صفحه (160) تو دیکھیں جہاں مریدی کا سوال ہے، اس روایت میں وہاں مرید کی خواہش کے مطابق پاؤں دبانے کی اجازت تو دے دی لیکن جہاں مہمان کے حق کا سوال ہے تو برداشت نہ کیا اور پہلے تیزی سے اٹھ کے خود دروازہ کھول دیا کہ آپ مہمان ہیں۔آج کل کے پیروں کی طرح یہ نہیں کہ تم پاؤں دبار ہے ہو اس لئے جاؤ دروازہ کھولو کیونکہ تمہارا مقام ہی یہی ہے۔تو یہ نمونے ہیں، دیکھیں کس باریکی سے آپ نے ان کا خیال رکھا تا کہ یہ مثالیں جماعت کی ترقی کے لئے قائم ہو جائیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک بہت شریف اور بڑے غریب مزاج احمدی سیٹھی غلام نبی صاحب ہوتے تھے جو رہنے والے تو چکوال کے تھے مگر پنڈی میں دکان کیا کرتے تھے، انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں حضرت مسیح موعود کی ملاقات کے لئے قادیان آیا۔سردی کا موسم تھا اور کچھ بارش بھی ہو رہی تھی۔میں شام کے وقت قادیان پہنچا۔تھا رات کو جب میں کھانا کھا کر لیٹ گیا تو کافی رات گزرگئی اور تقریباً بارہ بجے کا وقت ہو گیا کسی نے میرے کمرے کے دروازے پر دستک دی۔میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھڑے تھے۔ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا گلاس تھا اور دوسرے ہاتھ میں لالٹین تھی۔میں حضور کو دیکھ کر گھبرا گیا مگر حضور نے بڑی شفقت سے فرمایا کہیں سے دودھ آ گیا تھا میں نے کہا کہ آپ کو دے آؤں آپ یہ دودھ پی لیں، آپ کو شاید دودھ کی عادت ہوگی۔اس لئے دودھ آپ کے لئے لے آیا ہوں۔سیٹھی صاحب کہا کرتے تھے کہ میری آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔سبحان اللہ! کیا اخلاق ہیں۔خدا کا برگزیدہ پیج اپنے ادنی خادموں تک کی خدمت اور دلداری میں کتنی لذت پا رہا ہے اور تکلیف اٹھا رہا ہے۔(سیرت المهدى حصه سوم بحواله سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، چار تقریریں صفحه (٢٥٢،٢٥١)