خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 41
$2004 41 خطبات مسرور کے کس طرح ہوتا ہے لیکن جو خلوص اور جذ بہ اور وفا اور لگن ان نا تجربہ کار لوگوں میں ہے ان دنیا داروں کو کیا پتہ کہ ہزاروں پاؤنڈ خرچ کر کے بھی تم نہیں خرید سکتے۔اس کے لئے تو یہ عہد چاہیئے کہ میں جان، مال ، عزت اور وقت کو قربان کرنے کے لئے ہر دم تیار رہوں گا۔تو یہ تو وہ پیارے لوگ ہیں، وفاؤں کے پتلے ہیں جو نہ دن دیکھتے ہیں نہ رات۔ان میں لڑکے بھی ہیں، خواتین بھی ہیں، لڑکیاں بھی ہیں، مرد بھی ہیں، کالجوں اور یو نیورسٹیوں کے طلباء بھی ہیں اور اپنی ذاتی ملازمتوں اور کام کرنے والے لوگ بھی ہیں جو اپنی رخصتیں بھی ایم ٹی اے کے لئے قربان کرتے ہیں اور اس بات سے خوش ہیں کہ ان کو اپنے وفا کے عہد کو نبھانے کی توفیق مل رہی ہے۔ان میں سے بہت سوں میں وہ روح بھی ہے جس کی مثال میں نے پہلے دی تھی کہ کیوں ساٹھ روپے اپنی جیب سے خرچ کئے اور ہمیں قربانی کا موقعہ کیوں نہ دیا۔ان میں سے کچھ تو ہمیں سامنے نظر آجاتے ہیں جیسے کیمرہ مین ہیں جو اس وقت بھی آپ کو نظر آرہے ہیں اور خطبے کو آپ تک پہنچارہے ہیں۔بہت سے ایسے بھی ہیں جو پیچھے رہ کر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اور پروگرام بنارہے ہیں کچھ ان میں سے ایڈیٹنگ وغیرہ کر رہے ہیں، کچھ ریکارڈنگ کر رہے ہیں۔ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھے ہوئے ان نشریات کو پوری دنیا تک پہنچا ر ہے ہیں۔تو یہ تو یہاں کی مرکزی ٹیم کے لوگ ہیں۔پھر مختلف ممالک میں پروگرام بنانے والے ہیں۔مختلف ممالک کو اس موقع پر فائدہ اٹھاتے ہوئے ، جماعتوں کو یہ بھی کہہ دوں کو جس طرح جماعتوں کی طرف سے پروگرام بن کے آنے چاہتے تھے اس طرح نہیں آرہے۔افریقن ممالک سے بہت کم ہیں پروگرام۔یورپ سے اس طرح نہیں جس طرح آنے چاہئیں۔ایشیا کے بہت سے ممالک ہیں جہاں مختلف پروگرام بن سکتے ہیں، ڈاکومینٹریز بن سکتی ہیں۔وہاں کے اور بہت سارے پروگرام ہیں اور ان ملکوں میں جو اس چیز کے ماہرین ہیں بہت سی جگہوں پر ایسے لوگ ہیں جو احمدیوں کے واقف ہیں یا بعض جگہوں پر احمدی خود ہیں ،ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، ان سے مشورہ کیا جاسکتا ہے، پروگراموں میں جدت پیدا کی