خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 417
$2004 417 خطبات مسرور ہوتی ہے۔اور جس کا کسی بھی قسم کا فائدہ نہیں ہورہا ہوتا۔نہ کوئی علمی نہ روحانی ،صرف الجھانے کے لئے لوگوں میں ضد اور انا بھی بن جاتی ہے اور اپنا علم ظاہر کر رہے ہوتے ہیں کہ مجھے اس کا علم ہے، تمہیں نہیں ہے۔تو احمدیوں کو صرف اس لئے علم حاصل کرنا چاہئے کہ اپنی انا مقصد نہ ہو یا علم کا رعب ڈالنا مقصد نہ ہو بلکہ اس علم کے نور کو پھیلانا اور اس سے فائدہ اٹھانا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حاصل کرنا مقصد ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ واقعہ ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔جب آپ نے ایک عالم سے صرف اس لئے بحث نہیں کی تھی کہ اس کے نقطہ نظر کو آپ ٹھیک سمجھتے تھے تو جو لوگ آپ کو بحث کے لئے لے گئے تھے انہوں نے بہت کچھ کہا بھی لیکن پھر بھی آپ کو جس بات سے اصولی اختلاف تھا وہ آپ نے نہ کیا۔تو آپ کے اس فعل سے اللہ تعالیٰ نے بھی خوشی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ تیری عاجزانہ راہیں اسے پسند آئیں۔تو بندوں سے کچھ لینے کے لئے علم کا اظہار نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رضا پیش نظر رہنی چاہئے۔اور جو علم سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کی بھی خدمت ہو سکے۔ایک روایت میں حضرت ابو درداء بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص علم کی تلاش میں نکلے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔اور فرشتے طالب علم کے کام پر خوش ہو کر اپنے پر اس کے آگے بچھاتے ہیں اور عالم کے لئے زمین و آسمان میں رہنے والے بخشش مانگتے ہیں۔یہاں تک کہ پانی کی مچھلیاں بھی اس کے حق میں دعا کرتی ہیں۔اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چاند کی دوسرے ستاروں پر۔اور علماء انبیاء کے وارث ہیں۔انبیاء روپیہ پیسہ ورثہ میں نہیں چھوڑ جاتے بلکہ ان کا اور یہ علم وعرفان ہے جو شخص علم حاصل کرتا ہے وہ بہت بڑا نصیب اور خیر کثیر حاصل کرتا ہے۔(ترمذی کتاب العلم باب فضل الفقه)