خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 36
خطبات مسرور 36 $2004 پھر فرمایا : کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو اس بات کا علم نہیں کہ چندہ بھی جمع ہوتا ہے۔ایسے لوگوں کو سمجھانا چاہئے کہ اگر تم سچا تعلق رکھتے ہو تو خدا تعالیٰ سے پکا عہد کر لو کہ اس قدر چندہ ضرور دیا کروں گا اور نا واقف لوگوں کو یہ بھی سمجھایا جاوے کہ وہ پوری تابعداری کریں۔اگر وہ اتنا عہد بھی نہیں کر سکتے تو پھر جماعت میں شامل ہونے کا کیا فائدہ؟ نہایت درجہ کا بخیل اگر ایک کوڑی بھی روزانہ اپنے مال میں سے چندے کے لئے الگ کرے تو وہ بھی بہت کچھ دے سکتا ہے۔ایک ایک قطرہ سے دریا بن جاتا ہے۔اگر کوئی چار روٹی کھاتا ہے تو اسے چاہئے کہ ایک روٹی کی مقدار اس میں سے اس سلسلہ کے لئے الگ رکھے اور نفس کو عادت ڈالے کہ ایسے کاموں کے لئے اسی طرح سے نکالا کرے۔۔۔۔66 (البدر، جلد ٢ نمبر ٢٦ - صفحه ۲۰۲ - بتاريخ ۱۷ جولائی ۱۹۰۳ء) پھر آپ اپنی ایک رؤیا اور ایک الہام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: رؤیا دیکھا کہ ایک دیوار پر ایک مرغی ہے۔وہ کچھ بولتی ہے۔سب فقرات یاد نہیں رہے مگر آخری فقرہ جو یا در رہا یہ تھا: إن كُنتُم مُسْلِمِینَ۔اگر تم مسلمان ہو۔اس کے بعد بیداری ہوئی۔یہ خیال تھا کہ مرغی نے یہ کیا الفاظ بولے ہیں۔پھر الہام ہوا: أَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِنْ كُنتُمْ مُسْلِمِينَ۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔اگر تم مسلمان ہو۔فرمایا کہ مرغی کا خطاب اور الہام کا خطاب ہر دو جماعت کی طرف تھے۔دونوں فقروں میں ہماری جماعت مخاطب ہے۔چونکہ آجکل روپیہ کی ضرورت ہے۔لنگر میں بھی خرچ بہت ہے اور عمارت پر بھی بہت خرچ ہورہا ہے اس واسطے جماعت کو چاہئے کہ اس حکم پر توجہ کریں۔پھر فرمایا کہ: مرغی اپنے عمل سے دکھاتی ہے کہ کس طرح انفاق فی سبیل اللہ کرنا چاہئے کیونکہ وہ انسان کی خاطر اپنی ساری جان قربان کرتی ہے اور انسان کے واسطے ذبح کی جاتی ہے۔اسی