خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 386
$2004 386 خطبات مسرور تمہارے قول و فعل میں تضاد ہے۔کہتے کچھ ہو کرتے کچھ ہو۔اس لئے ایمان لانے والوں کو دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ نصیحت فرمائی کہ ﴿يَايُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَالَا تَفْعَلُوْنَ ﴾ (الصف: ۲۔۳)۔کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو تم کیوں وہ کہتے ہو جو کرتے نہیں۔اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں۔تو اللہ تعالیٰ کوتو دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔لوگوں کی آنکھوں میں تو دھول جھونکی جاسکتی ہے۔اپنی ظاہری پاکیزگی کا اظہار کر کے لوگوں سے تو واہ واہ کروائی جاسکتی ہے۔لوگوں کو تو علم نہیں ہوتا ، نیکی کا ظاہری تأثر لے کر وہ کسی کو عہد یدار بنانے کے لئے ووٹ بھی دے دیتے ہیں اور عہدیدار بن بھی جاتے ہیں۔پھر بڑھ بڑھ کر داعیان میں اپنے نام بھی لکھوا لیتے ہیں۔لیکن اس کا فائدہ کیا ہو گا۔کیونکہ تمہارے قول و فعل میں تضاد ہوگا اس وجہ سے تم اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں گنہگار ہو گے۔فائدہ کی بجائے الٹا نقصان ہے۔اس لئے ہر ایک کو اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے۔کام میں برکتیں بھی اس وقت پڑتی ہیں جب نیتیں صاف ہوں۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”اسلام کی حفاظت اور سچائی کو ظاہر کرنے کے لئے سب سے اول تو وہ پہلو ہے کہ تم سچے مسلمانوں کا نمونہ بن کر دکھاؤ اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کی خوبیوں اور کمالات کو دنیا میں پھیلاؤ۔(ملفوظات جلد چہارم صفحه ۲۱۵ الحکم ۳۱ جنوری ۱۹۰۲ء) تو ہر داعی الی اللہ کو، ہر تبلیغ کرنے والے کو، ہر واقف زندگی کو ، ہر عہد یدار کو اور کیونکہ دنیا کی نظر ایک جماعت کی حیثیت سے جماعت کے ہر فرد پر ہے۔اس لئے ہر احمدی کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بوڑھا ایک نمونہ بننے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ دعوت الی اللہ کے میدان میں بھی ہماری مددفرمائے اور ہماری زندگیوں میں بھی اس کے فضل کے آثار ظاہر ہوں۔جب یہ عملی نمونے ہم دکھانے شروع کر دیں گے اور دکھانے کے قابل ہو جائیں گے اور ہر شخص خواہ وہ کسی عمر کا