خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 385
$2004 385 مسرور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس میں یہی مسلسل فرمایا کہ تھکنا نہیں۔دعوت الی اللہ کا کام ایک مستقل کام ہے، مستقل مزاجی سے لگے رہنے والا کام ہے اور یہ نہیں ہے کہ ایک رابطہ کیا یا سال کے آخر میں دو مہینے اپنے ٹارگٹ پورے کرنے کے لئے وقف کر دیئے۔بلکہ ساراسال اس کام پہ لگے رہنا چاہئے اور اس طرف توجہ دیتے رہنا چاہئے۔اور جس آدمی کو پکڑیں اس کا پتہ لگ جاتا ہے کس مزاج کا ہے۔جو بھی آپ کے رابطے ہوتے ہیں پھر مسلسل اس سے رابطہ ہو۔آخر ایک وقت ایسا آئے گا یا تو آپ کو اس کے بارے میں پتہ لگ جائے گا کہ اس کا دل سخت ہے اور وہ ایسی زمین ہی نہیں جس پہ کوئی چھینٹا بارش کا اثر کر سکے، کوئی نیکی کا اثر اس پر ہو، تو اس کو تو آپ چھوڑیں۔لیکن بہت سارے ایسے ہیں جو آپ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس لئے اس عمل کو مسلسل جاری رہنا چاہیئے اور سونہیں جانا چاہئے کہ جی کام سال کے آخر میں کر لیں گے۔پھر جو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے ہیں ان میں ایک بہت بڑی خوبی جس کی ضرورت ہے اور جس کے بغیر نہ جوش کام آسکتا ہے نہ تبلیغ کے لئے کسی قسم کا کوئی شوق کام آ سکتا ہے، نہ تبلیغ کے طریقوں میں حکمت ، دانائی اور علم کام آ سکتا ہے وہ جو سب سے ضروری چیز ہے وہ ہے عمل۔اس لئے میں نے جو پہلی آیت تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے کی تعریف کر کے یہ بھی فرمایا کہ صرف وہ نیکی کی طرف بلاتے ہی نہیں ہیں بلکہ نیک اعمال خود بھی بجالانے والے ہیں۔ان کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں ہے۔یہ نہیں کہ وہ خود کچھ کر رہے ہوں اور لوگوں کو کچھ کہہ رہے ہوں۔اور جب ان کا قول و فعل ایک جیسا ہوگا تو تبھی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ بات کہنے کے بھی حقدار ہوں گے کہ ہم کامل فرمانبرداروں میں سے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ تو غیب کا علم جانتا ہے۔وہ تو ہمارے سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کا خوب علم رکھتا ہے۔ہر بات اس کے علم میں ہے۔اگر ہمارے قول وفعل میں تضاد ہوگا تو وہ فرمائے گا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، تم کامل فرمانبرداروں میں نہیں ہو کیونکہ