خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 379 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 379

$2004 379 خطبات مسرور لیکن یہ یادرکھیں کہ پیغام پہنچانے کے تبلیغ کرنے کے بھی کوئی طریقے سلیقے ہوتے ہیں۔اس کچی تڑپ اور جوش اور جذبے کے ساتھ حکمت اور دانائی کا پہلو بھی مدنظر رہنا چاہئے۔حکمت کے ساتھ اس پیغام کو پہنچانا چاہئے تا کہ دنیا پر اثر بھی ہو اور جس نیت سے ہم پیغام پہنچا رہے ہیں وہ مقصد بھی حاصل ہو، نہ کہ دنیا میں فساد پیدا ہو۔اس لئے اس قرآنی آیت کو اس معاملے میں ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔فرمایا: أَدْعُ إِلى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ) (النحل: ۱۲۲)۔یعنی اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دے اور ان سے ایسی دلیل کے ساتھ بحث کر جو بہترین ہو۔یقیناً تیرا رب ہی اسے، جو اس کے راستے سے بھٹک چکا ہو، سب سے زیادہ جانتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کا بھی سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔پس جو مختلف ذرائع ہیں ان کو استعمال کریں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا۔لیکن مختلف لوگوں کی مختلف طبائع ہوتی ہیں ان طبائع کے مطابق ان کو نصیحت ہونی چاہئے ، ان کو تبلیغ ہونی چاہئے۔اگر ایسی صورت پیدا ہو جائے جہاں فتنہ پیدا ہونے کا خطرہ ہو تو دعائیں کرتے ہوئے کیونکہ اصل چیز تو دعا ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو کھنچتی ہے تو اللہ سے دعائیں کرتے ہوئے اس سے مدد مانگتے ہوئے ایسی جگہوں سے پھر بچنا چاہئے ، اٹھ جانا چاہئے عارضی طور پر۔لیکن یہ نہیں ہے کہ ان لوگوں کے لئے دعائیں کرنی بند کر دیں بلکہ ان لوگوں کی ہدایت کے لئے مسلسل اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ” جسے نصیحت کرنی ہوا سے زبان سے کرو۔ایک ہی بات ہوتی ہے وہ ایک پیرایہ میں ادا کرنے سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسرے