خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 363 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 363

$2004 363 خطبات مسرور اللہ علیہ وسلم جب صدقہ کرنے کا ارشاد فرماتے ( بعض دفعہ کوئی تحریک ہوتی ) تو ہم میں سے کوئی بازار کو جاتا اور وہاں محنت مزدوری کرتا اور اُسے اجرت کے طور پر ایک مد ،تھوڑ اسا، اناج ملتا مزدوری کا ، تو کہتے ہیں وہی صدقہ کر دیا کرتے تھے۔اور کہتے ہیں اب ہم میں سے وہ لوگ جو اس طرح محنت مزدوری کرتے تھے اور چھوٹے چھوٹے کام کرتے تھے ان میں سے تقریباً تمام کا یہ حال ہے کہ بعضوں کے پاس ایک ایک لاکھ درہم یا دینار تک ہیں۔(بخاری کتاب الاجارة ـ باب من اجر نفسه ليحل على ظهره ثم صدق به۔۔۔۔۔۔۔تو یہ صرف پرانے قصے نہیں ہیں کہ اس زمانے میں ان صحابہ پر اللہ تعالیٰ کا فضل تھا اب نہیں ہو رہا بلکہ اب بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے آج بھی ایسے لوگ ہیں جو اپنی نیک نیتی کی وجہ سے اور محنت کی وجہ سے لاکھوں میں کھیل رہے ہیں۔پھر ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دنیا سے بے رغبتی اور زہد یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے اوپر کسی حلال کو حرام کر لے اور اپنے مال کو برباد کر دے ( یعنی اپنے پاس مال نہ رکھے ) بلکہ زہد یہ ہے کہ تمہیں اپنے مال سے زیادہ خدا کے انعام اور بخشش پر اعتماد ہو۔(جامع ترمذی۔کتاب الزهد باب ما جاء في الزهادة الدنيا) مال ہو بھی تو یہ نہ سمجھو کہ مال ہمارے پاس ہے ہم سب کچھ کر سکتے ہیں یا اب ہمیں کوئی نقصان نہیں ہو سکتا یا اب ہم کوئی چیز بن گئے ہیں بلکہ نیت ہمیشہ نیک رہنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی طرف ہمیشہ جھکتے رہنا چاہئے اور جھکے رہنا چاہئے اور اسی پر تو کل ہونا چاہئے۔کہتے ہیں کہ جب تم پر کوئی مصیبت آئے تو اس کا جو اجر اور ثواب ملنے والا ہے اس پر تمہاری نگاہ جم جائے اور تم مصائب کو ذریعہ ثواب سمجھو۔اب کبھی مشکلات آتی ہیں تو پھر چیخنے چلانے یا مایوس ہونے کی بجائے یا خدا تعالیٰ کا انکار کرنے کی بجائے ( بعض لوگ اس صدمے میں نمازیں بھی پڑھنی چھوڑ دیتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی طرف جھکو اور اس امتحان میں سے ہر ایک کو سرخرو ہو کر نکلنے کی کوشش کرنی چاہئے۔تو اگر اللہ تعالیٰ کے