خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 364 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 364

$2004 364 خطبات مسرور آگے ہر انسان جھلکتے ہوئے اس سے مدد مانگتا رہے تو دیکھتے ہیں کہ پھر وہ اللہ تعالیٰ کے کتنے بے انتہا فضلوں کا وارث بن جاتا ہے۔جو اس دنیا میں بھی ظاہر ہوتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی بلکہ آئندہ نسلوں میں بھی وہ فضل ظاہر ہورہے ہوتے ہیں۔اس لئے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے، کبھی اللہ تعالیٰ سے شکوہ نہیں کرنا چاہئے ، بلکہ اس کے حضور اور زیادہ جھکتے ہوئے اس سے مدد چاہنی چاہئے اور اس کی عبادات کو پہلے سے بڑھ کر ادا کرنا چاہئے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اپنی نسبتی ہمشیرہ حضرت اسماء بنت ابو بکر کو نصیحت فرمائی کہ اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہ کیا کرو۔ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دے گا۔اپنے رو پوؤں کی تھیلی کا منہ بند کر کے نہ بیٹھ جاؤ یعنی کنجوسی اور بخل سے کام نہ اور نہ پھر اس کا منہ بند ہی رکھا جائے گا ( یعنی اگر کوئی روپیہ اس سے نکلے گا نہیں تو اس میں آئے گا بھی نہیں۔(اس لئے ) جتنی طاقت ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ) دل کھول کر خرچ کرنا چاہئے۔(بخاری كتاب الزكواة باب التحريص على الصدقة) الحمد للہ کہ اس طرح دل کھول کر خرچ کرنے کے نظارے جماعت میں بے شمار نظر آتے ہیں۔اب خدام الاحمدیہ کے اجتماع پر میں نے سو مساجد کی تعمیر میں ستی جو عموماً جماعت میں نظر آ رہی ہے، خدام الاحمدیہ کو صرف توجہ دلائی تھی ، عمومی طور پر جماعت کو بھی میں نے یہی کہنا تھا کہ اس طرف توجہ دیں۔تو اگلے روز ہی خدام الاحمدیہ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال کے اپنے وعدے اور وصولی کے لئے ایک ملین یورو ( Euro) کا ، دوسری دنیا میں ہمارے ملکوں میں سمجھ نہیں آتی اس لئے 10لاکھ یورو (Euro) کا وعدہ کر دیا اور پہلے جبکہ یہ وعدہ ڈھائی لاکھ یوروکا تھا۔اور ابھی جو انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ تقریباً جو پہلا وعدہ تھا اتنی تو اب ایک ہفتے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وصولی بھی ہو چکی ہے۔دل کھول کر چندے دینے کے اور روپوؤں کی تھیلیوں کو کھول کر رکھنے کے یہ نظارے ہمیں جماعت میں بے انتہا نظر آتے ہیں۔بلکہ ایک مخلص نے تو یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ زمین کی خرید سمیت