خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 350 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 350

$2004 350 خطبات مسرور بہر حال وہاں کوشش بھی کی گئی کہ روکا جائے لیکن وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور وہ نہیں پہچان سکے۔جماعت میں اس سے بڑی سچائی کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے ہجرت کی ہے تو جو اس وقت سلوک ہوا تھا اس سلوک کی کچھ جھلکیاں ہم نے اس ہجرت کے وقت بھی دیکھیں اور جس سے ہمارے ایمانوں کو مزید تقویت پہنچی ہمارے ایمان مزید مضبوط ہوئے۔پھر یہاں پہنچ کر بیرونی ممالک میں جماعتوں کو مشنوں کو منظم کرنے کا کام بہت وسعت اختیار کر گیا۔اور اسی طرح دعوت الی اللہ کا کام بھی بہت وسیع ہو گیا۔اور پھر لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں جماعت میں داخل ہونا شروع ہو گئے، پھر ایم ٹی اے کا اجراء ہوا، ایک ملک میں تو پلان تھا کہ یہاں خلیفہ اسی کی آواز کوروک دیا جائے لیکن ایم ڈی اے نے تمام دنیا میں وہ آواز پہنچا دی اور دشمن کی تدبیریں پھر نا کام ہو کر ان پر لوٹ گئیں۔پہلے تو مسجد اقصیٰ ربوہ میں خلیفہ امسیح کا خطبہ سنتے تھے اب ہر شہر میں، ہر گاؤں میں، ہر گھر میں یہ آواز پہنچ رہی ہے۔پھر افریقہ میں خدمت انسانیت کے کام کو اس دور میں بڑی وسعت دی گئی۔غرض کہ ایک انتہائی ترقی کا دور تھا اور ہر روز جو دن چڑھ رہا تھا وہ ایک نئی ترقی لے کر آرہا تھا۔دشمن خیال کرتا ہے یا انسان اپنی سوچ سے بعض اوقات سوچتا ہے کہ یہاں انتہاء ہوگئی اور اب اس سے زیادہ ترقی کیا ہوگی۔لیکن اللہ تعالیٰ ایسے نظارے دکھاتا ہے کہ انسان کی سوچ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔پھر آپ کی وفات کے بعد دشمنوں کا خیال تھا کہ اب تو یہ جماعت گئی کہ گئی اب بظاہر کوئی نظر نہیں آتا کہ اس جماعت کو سنبھال سکے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نظارے سب نے دیکھے۔بچوں نے بھی اور نو جوانوں نے بھی ،مردوں نے بھی اور عورتوں نے بھی اپنے ایمانوں کو مضبوط کیا حتی کہ غیر از جماعت بھی کیا مسلمان اور کیا غیر مسلمان سب نے ہی یہ نظارے دیکھے کیونکہ ایم ٹی اے کے ذریعے یہ ہر جگہ پہنچ رہے تھے۔لندن میں مجھے کسی نے بتایا کہ ایک سکھ نے کہا کہ ہم بڑے حیران ہوئے آپ