خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 349 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 349

$2004 349 خطبات مسرور تھے اب لاکھوں میں پہنچے ہوئے ہیں۔جن کے لاکھوں کے کاروبار تباہ کئے گئے تھے ان کے کاروبار کروڑوں میں پہنچے ہوئے ہیں اور آپ لوگ بھی جو یہاں نکلے ، اسی وجہ سے نکلے، آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی لئے نکلنے کا موقع دیا کہ جماعت پر پاکستان میں تنگیاں اور سختیاں تھیں۔اور یہاں آ کے اگر نظر کریں پچھلے حالات میں اور اب کے حالات میں تو آپ کو خود نظر آ جائے گا کہ آپ پہ اللہ تعالیٰ کے کتنے فضل ہوئے ہیں۔مالی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے کتنا آپ کو مضبوط کر دیا ہے۔اب اس کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ لوگ اس کے آگے مزید جھکیں اور اس کے عبادت گزار بنتے چلے جائیں۔اپنی نسلوں میں بھی یہ بات پیدا کریں کہ سب کچھ جو تم فیض پارہے ہو یہ اس سختی اور تنگی کا فیض ہے جو جماعت پر پاکستان میں تھی اور آج ہم اس کی وجہ سے کشائش میں بیٹھے ہوئے ہیں۔کیونکہ یہ ہمیشہ یادرکھیں کہ نیک اعمال بجالانے کی شرط قائم ہے اور ہر وقت قائم ہے۔پھر خلافت رابعہ کا دور آیا۔پھر دشمن نے کوشش کی کسی طرح فتنہ وفساد پیدا کیا جائے لیکن جماعت ایک ہاتھ پر اکٹھی ہو گئی۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس خوف کی حالت کو امن میں بدل دیا۔انتخاب خلافت کے ان حالات کے بعد جو بڑی سختی کے چند دن یا ایک آدھ دن تھے دشمن نے جب وہ سکیم ناکام ہوتی دیکھی تو پھر دو سال بعد ہی خلافت رابعہ میں، 84 ء میں ، پھر ایک اور خوفناک سکیم بنائی کہ خلیفہ المسیح کو بالکل عضو معطل کی طرح کر کے رکھ دو۔وہ کوئی کام نہ کر سکے۔اور جب وہ کوئی کام نہیں کر سکے گا تو جماعت میں بے چینی پیدا ہوگی اور جب جماعت میں بے چینی پیدا ہو گی تو ظاہر ہے وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوتی چلی جائے گی ، اس کا شیرازہ بکھرتا چلا جائے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر پر اپنی تدبیر کو کیسے حاوی کیا۔ان کی ہر تد بیر کو کس طرح الٹا کے مارا کہ حضرت خلیفہ المسح الرابع کے وہاں سے نکلنے کے ایسے سامان پیدا فرمائے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ چھپ کے نکلے۔کھلے طور پر نکلے اور سب کے سامنے نکلے اور کراچی سے دن کے وقت یا صبح شروع وقت کی ہی وہ فلائیٹ تھی۔