خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 348 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 348

$2004 348 خطبات مسرور چلے جانا ہے تا کہ ان کی دعاؤں سے بھی ہم حصہ پاتے رہیں۔اور یہ جو افریقن ممالک میں ہمارے سکول اور کالج ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کا بھی ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔کل ہی سیرالیون کی رہنے والی خاتون بچوں کے ساتھ مجھے ملنے آئیں۔وہ کہتی ہیں کہ ہمارے ہاں تو خاندان میں اسلام کا پتہ ہی کچھ نہیں تھا۔احمد یہ سکول میں میں نے تعلیم حاصل کی اور وہیں سے مجھے احمدیت کا پتہ لگا اور بڑے اخلاص اور وفا کا اظہار کر رہی تھیں۔وہ بڑی مخلص احمدی خاتون ہیں۔اسی طرح اور بہت سے ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہیں جو ہمارے ان سکولوں سے تعلیم حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں شامل ہوئے اور اس کی برکات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔پھر خلافت ثالثہ میں ہی آپ دیکھ لیں ، 74ء کا فساد ہوا اس وقت ان کا خیال تھا کہ اب تو احمدیت ختم ہوئی کہ ہوئی، ایک قانون پاس کر دیا کہ ہم ان کو غیر مسلم قرار دے دیں گے تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا۔کئی شہید کئے گئے ، جانی نقصان کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بھی پہنچایا گیا۔کاروبارلوٹے گئے ، گھروں کو آگئیں لگا دی گئیں، دکانوں کو آگئیں لگادی گئیں، کارخانوں کو آگئیں لگادی گئیں۔لیکن ہوا کیا ؟ کیا احمدیت ختم ہوگئی۔پہلے سے بڑھ کر اس کا قدم اور تیز ہو گیا، باپ کو بیٹے کے سامنے قتل کیا گیا، بیٹے کو باپ کے سامنے قتل کیا تو کیا خاندان کے باقی افراد نے احمدیت چھوڑ دی؟۔ان میں اور زیادہ ثبات قدم پیدا ہوا ، ان میں اور زیادہ اخلاص پیدا ہوا۔ان میں اور زیادہ جماعت کے ساتھ تعلق پیدا ہوا۔دشمن کی کوئی بھی تدبیر کبھی بھی کارگر نہیں ہوئی اور کبھی کسی کے ایمان میں لغزش نہیں آئی۔اور پھر اب دیکھیں کہ ان نیکیوں پر قائم رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو جو جانی نقصان ہوا یا جن خاندانوں کو اپنے پیاروں کا جانی نقصان برداشت کرنا پڑا، اگلے جہان میں تو اللہ تعالیٰ نے جزا دینی ہے اللہ نے اُن کو اس دنیا میں بھی ان کو بے انتہا نوازا ہے۔مالی لحاظ سے بھی اور ایمان کے لحاظ سے بھی۔جو پاکستان میں رہے ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے کاروباروں میں برکت دی۔کئی لوگ ملتے ہیں جن کے ہزاروں کے کاروبار