خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 280 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 280

$2004 280 خطبات مسرور ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہی بہترین جگہ ہے اور یہ بہترین جگہ اس وقت حاصل ہو گی جب دنیا داری کو چھوڑ کر میری رضا کے حصول کی کوشش کرو گے اور میرے احکامات پر عمل کرو گے۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا هَذِهِ الْحَيوةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَ لَعِبٌ۔وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ﴾ (العنکبوت : ۶۵)۔یعنی اور یہ دنیا کی زندگی غفلت اور کھیل تماشا کے سوا کچھ بھی نہیں اور یقیناً آخرت کا گھر ہی دراصل حقیقی زندگی ہے کاش کہ وہ جانتے۔فرمایا کہ مومنوں کو چاہئے کہ اس دنیا کی زندگی اور اس کی چکا چوند ہی اپنی زندگی کا مقصد نہ سمجھ لیں۔یہ تو کافروں کا کام ہے کہ اس دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں۔مومن کا کام یہ ہے کہ اصل مقصود اس کا اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔نہ کہ دنیا کے پیچھے دوڑنا۔اور جب تک انسان میں قناعت پیدا نہ ہو ،سادگی پیدا نہ ہو وہ ہمیشہ مالی لحاظ سے اپنے سے بہتر کو دیکھ کر بے چین ہو جاتا ہے۔اگر قناعت ہو گی تو اس کو کوڑی کی بھی پرواہ نہیں ہوگی کہ فلاں کے پاس کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔بلکہ وہ اس بات پر عمل کرے گا کہ نیکیوں میں اپنے سے بہتر کو دیکھو اور رشک کرو اور پھر نیکیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور ہمیشہ یہ سامنے رہے گا کہ اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے اور مرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی کوشش کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ تو ہمارے لئے چاہتا ہے کہ ہم اس کے احکامات پر عمل کر کے اس کا قرب حاصل کریں۔بار بار اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے۔یہاں بھی یہی کہا کہ کاش تم جانتے کہ دنیا کی طرف بڑھ کر کس تباہی کی طرف تم جا رہے ہو۔دنیا کی سہولیات اور چیزیں خدا نے پیدا کی ہیں ان سے فائدہ اٹھانا کوئی گناہ نہیں، بلکہ ضرور اٹھانا چاہئے۔لیکن اس کو حاصل کرنے کے لئے غلط راستے اپنانا ، جو کچھ اپنے پاس ہے اس پر قناعت نہ کرنا اور دوسرے سے حسد کرنا ، اپنی زندگی کو سادہ بنا کر اپنے اخراجات کو کنٹرول کر کے دین کی ضروریات