خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 281 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 281

$2004 281 خطبات مسرور کے لئے قربانی نہ دینا برائی ہے۔اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا استعمال برائی نہیں ہے بلکہ وہ سوچ جس کے تحت بعض ایسے کام کئے جاتے ہیں وہ برائی ہے۔اور ہر احمدی کو بہر حال اس سے بچنا چاہئے۔بعض لوگ لازمی چندہ جات یا وعدہ والے چندوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں لیکن اپنی خواہشات کو کم نہیں کرتے۔اگر قناعت اور سادگی ہوگی تو چندوں کے بوجھ کو کبھی بھی محسوس نہیں کرے گا۔تو ہر احمدی کو ہمیشہ قناعت اور سادگی کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اگر یہ پیدا ہو جائے تو ہم بہت سی برائیوں سے بچ سکتے ہیں۔اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے ہمارے پاس رقم بھی موجود ہو جائے گی ، ہمارے دل بھی وسیع ہو جائیں گے۔اب اس بارے میں چند احادیث پیش کرتا ہوں۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "متقی بنو سب سے بڑے عابد بن جاؤ گے۔قناعت اختیار کروسب سے زیادہ شکر گزار بن جاؤ گے۔لوگوں کے لئے وہی چاہو جو اپنے لئے چاہتے ہو حقیقی مومن بن جاؤ گے۔اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرو حقیقی مسلمان بن جاؤ گے۔کم ہنسو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ بنادیتا ہے۔(سنن ابن ماجه كتاب الزهد باب الورع والتقوى) تو اس حدیث میں تقویٰ کے بعد جو دوسری اہم بات بیان کی گئی ہے وہ قناعت ہے کہ قناعت اختیار کرو۔کیونکہ قناعت تمہیں شکر گزار بندہ بنادے گی اور اگر تم شکر گزار بن گئے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم پھر میرے فضلوں کو اور بھی زیادہ حاصل کرنے والے ہو گے۔مومن کا کام ہے کہ پوری محنت سے اپنے کام پر توجہ دے، تمام میسر وسائل کو بروئے کارلائے اور پھر جو کچھ حاصل ہواس پر قناعت کرے اور الحمد للہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں سے اس طرح نوازتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔اور بعض دفعہ بعض لوگوں کو ان کی پسند کا کام یا پسند کی تنخواہ نہیں ملتی اور یہ صورت پاکستان وغیرہ تیسری دنیا کے ممالک میں بھی ہے اور یہاں یورپ امریکہ وغیرہ میں بھی ہے کہ پڑھا لکھا ہونے کے باوجود اکثر آج کل دنیا کے جو معاشی حالات ہیں اس میں مرضی کا یا اس معیار کا کام نہیں