خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 267
$2004 267 مسرور ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص جس کے دل میں ذرا سا بھی تکبر ہوگا۔وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ایک شخص نے عرض کی کہ ہر شخص پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جو تے خوبصورت ہوں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے“۔(مسلم کتاب الایمان باب تحريم الكبر و بيانه) اب اس حدیث سے یہ واضح ہونا چاہئے کہ صاف ستھرا رہنے یا اچھے کپڑے پہنے سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے اور یہ خیال دل میں نہیں آنا چاہئے کہ اپنے سے مالی لحاظ سے کم تر کسی شخص کے ساتھ نہ بیٹھوں۔اگر یہ صورت ہوگی تو پھر تکبر ہے۔ورنہ اچھے کپڑے پہنا اور صاف ستھرا رہنا، اچھے جوتے پہنا یہ تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اظہار ہے۔اور اگر تکبر ہوگا تو تب فرمایا کہ ایسے شخص کے لئے پھر جنت کے دروازے بند ہیں۔اس لئے مومن اور دنیا دار میں یہی فرق ہے کہ وہ صاف ستھرا رہتا ہے، اچھے کپڑے پہنتا ہے اچھے جوتے پہنتا ہے اپنے گھر کو سجا کر رکھتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو خوبصورتی پسند ہے یعنی اس کا یہ ظاہری خوبصورتی کا اظہار بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر ہے، اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے اور کیونکہ مومن کا یہ اظہار اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے۔اس لئے غریب آدمی کے ساتھ مالی لحاظ سے اپنے سے کم بھائی کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا اس کا پاس لحاظ رکھنا یہ بھی اس کے لئے ایسا ہی ہے جیسا کسی مالدار شخص کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اس کا پاس لحاظ کرنا ہے۔یہ ہے اسلامی تعلیم کہ تم خدا تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا اپنے ظاہری رکھ رکھاؤ سے اظہار بھی کر ولیکن اس کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق ان غریبوں کا بھی خیال رکھو تا کہ ان کا ایک بھائی کی حیثیت سے حق پورا ادا ہو۔حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب نے جب آئی سی ایس کا امتحان پاس کیا تو سول سروس میں گئے کیونکہ برصغیر میں عموماً افسر اپنے آپ کو عام آدمی سے بالا سمجھتے تھے اور اب بھی اکثر پاکستان وغیرہ میں جو بیورو کریٹ ہیں سمجھتے ہیں کہ ہم کوئی ایسی شخصیت ہیں جو