خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 266
$2004 266 خطبات مسرور تمہارے حلیے سے بھی ہونا چاہئے ، تمہارے کپڑوں سے ، تمہارے لباس سے تمہارے گھروں سے، اس لئے اپنا حلیہ درست رکھو اور اچھے کپڑے پہنا کرو۔یہ نصیحت ان کو کی۔ایک روایت میں ہے حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ایک پراگندہ بال شخص کو دیکھا یعنی اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور فرمایا کہ " کیا اس کے پاس بال بنانے کے لئے کوئی چیز نہیں ہے۔اور ایک گندے کپڑے والے شخص کو دیکھ کر فرمایا کہ کیا اسے کپڑے دھونے کے لئے پانی میسر نہیں“۔(سنن ابو داؤد کتاب اللباس - باب في غسل الثوب) مطلب یہ تھا کہ یہ شخص اس حالت میں کیوں ہے۔اب بعض لوگ ہمارے ملکوں میں پاکستان وغیرہ میں گندے کپڑوں والے اور لمبے چوغے پہنے ہوتے ہیں۔گھنگھرو اور کڑے پہنے ہوئے ایسے لوگوں کو دیکھ کر مجھتے ہیں کہ ملنگ ہے، بڑا پہنچا ہوا بزرگ ہے حالانکہ یہ سراسر اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جماعت ایسے لوگوں سے پاک ہے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عطاء ابن سیار بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص پراگندہ بال اور بکھری ڈاڑھی والا آیا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اشارہ سے سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ سر اور داڑھی کے بال درست کرو۔جب وہ سر کے بال ٹھیک ٹھاک کر کے آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ بھلی شکل (یعنی یہ خوبصورت شکل ) بہتر ہے یا یہ کہ انسان کے بال اس طرح بکھرے اور پراگندہ ہوں کہ وہ شیطان اور بھوت لگے۔(موطأ امام مالك باب ما جاء في الطعام والشراب و اصلاح (الشعر) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے غلیظ حلیے والے لوگوں کو شیطان سے تشبیہ دی ہے۔اور پاکستان اور ہندوستان وغیرہ میں ایسے حلیے کے لوگوں کو دیکھ کے ملنگ اور اللہ والے کہا جاتا ہے۔تو یہ تضاد دیکھ لیں اور یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے اس زمانے کے امام کو نہیں مانا اور پہچانا۔